Showing posts with label سارہ تعبیر. Show all posts
Showing posts with label سارہ تعبیر. Show all posts

Monday, 4 July 2022

اب سے کچھ وقت ادھر جھانک کر دیکھ لے

 اب سے کچھ وقت ادھر جھانک کر دیکھ لے

دیکھ لے وہ جو دیوانگی اور وحشت سے گھائل پڑے ہیں

وہ کتنےحسیں تھے، یہ ہم جانتے ہیں

کہ جو عمر بھر طاقچوں میں پگھلتے رہے

اندروں میں سیاہی سی بھرتے رہے

تیری راتوں کو روشن تو کرتے رہے

Friday, 3 December 2021

مجھے کچھ روشنی بھیجو

تمہاری یاد کے جگنو

 

میرے اندر 

میرے باہر

بہت سارا اندھیرا ہے

تمہاری یاد کے جگنو

ستارہ وار آئیں تو

Wednesday, 24 November 2021

سنو اے ہمنفس سنو ہمارا بین بھی سنو

 سنو اے ہمنفس سنو 

ہمارا بین بھی سنو 

کہ چشمِ تر میں یوں 

تمہارے ہجر کو سہارنا سہل نہ تھا 

جب ان رگوں کے درمیان سانس اٹک رہی تھی

اور خون جم چکا تھا

Wednesday, 30 June 2021

حدود ضبط پھر اک رات آزمائی گئی

 حدودِ ضبط پھر اک رات آزمائی گئی

کہ پور پور اذیت کو چپ سکھائی گئی

ہمارا عکس دہکتی تپش میں جھونکا گیا

ہماری آنکھ کسی پانی میں بہائی گئی

وہ ہاتھ چھُوٹ گیا اور ریل چلنے لگی

ہمارے ہاتھ سے عمروں کی اک کمائی گئی

Tuesday, 29 June 2021

پرائے زخموں سے آگہی کے خمار اتریں

 پرائے زخموں سے آگہی کے خمار اتریں

ہماری آنکھوں سے تیرے ہجراں کے وار اتریں

گنوائے جانے کا ایک پل بھی نہیں بچا ہے

وہ کہہ رہا ہے کہ پار اتریں، تو پار اتریں

مسیحا اب یہ تھکن تو جاں لیوا ہو چلی ہے

مسیحا روحِ نحیف سے سارے بار اتریں