اب سے کچھ وقت ادھر جھانک کر دیکھ لے
دیکھ لے وہ جو دیوانگی اور وحشت سے گھائل پڑے ہیں
وہ کتنےحسیں تھے، یہ ہم جانتے ہیں
کہ جو عمر بھر طاقچوں میں پگھلتے رہے
اندروں میں سیاہی سی بھرتے رہے
تیری راتوں کو روشن تو کرتے رہے
اب سے کچھ وقت ادھر جھانک کر دیکھ لے
دیکھ لے وہ جو دیوانگی اور وحشت سے گھائل پڑے ہیں
وہ کتنےحسیں تھے، یہ ہم جانتے ہیں
کہ جو عمر بھر طاقچوں میں پگھلتے رہے
اندروں میں سیاہی سی بھرتے رہے
تیری راتوں کو روشن تو کرتے رہے
تمہاری یاد کے جگنو
میرے اندر
میرے باہر
بہت سارا اندھیرا ہے
تمہاری یاد کے جگنو
ستارہ وار آئیں تو
سنو اے ہمنفس سنو
ہمارا بین بھی سنو
کہ چشمِ تر میں یوں
تمہارے ہجر کو سہارنا سہل نہ تھا
جب ان رگوں کے درمیان سانس اٹک رہی تھی
اور خون جم چکا تھا
حدودِ ضبط پھر اک رات آزمائی گئی
کہ پور پور اذیت کو چپ سکھائی گئی
ہمارا عکس دہکتی تپش میں جھونکا گیا
ہماری آنکھ کسی پانی میں بہائی گئی
وہ ہاتھ چھُوٹ گیا اور ریل چلنے لگی
ہمارے ہاتھ سے عمروں کی اک کمائی گئی
پرائے زخموں سے آگہی کے خمار اتریں
ہماری آنکھوں سے تیرے ہجراں کے وار اتریں
گنوائے جانے کا ایک پل بھی نہیں بچا ہے
وہ کہہ رہا ہے کہ پار اتریں، تو پار اتریں
مسیحا اب یہ تھکن تو جاں لیوا ہو چلی ہے
مسیحا روحِ نحیف سے سارے بار اتریں