Monday, 4 July 2022

اب سے کچھ وقت ادھر جھانک کر دیکھ لے

 اب سے کچھ وقت ادھر جھانک کر دیکھ لے

دیکھ لے وہ جو دیوانگی اور وحشت سے گھائل پڑے ہیں

وہ کتنےحسیں تھے، یہ ہم جانتے ہیں

کہ جو عمر بھر طاقچوں میں پگھلتے رہے

اندروں میں سیاہی سی بھرتے رہے

تیری راتوں کو روشن تو کرتے رہے

ان کی آنکھوں سے کتنے ہی سورج نکلتے تھے

اور چاند تاروں سے ان کی شناسائی تھی

کوئی لہجہ تھا جیسے کہ استھائی تھی

آنکھ میں جگنوؤں کی حسیں جوت تھی 

اور بدن میں کبھی عود و لوبان و عنبر مہکتے تھے

ایک آواز پر کیسے لبیک کہتے ہوئے

حرف و صوت آتے تھے

وہ سمے تھا کہ جب طاقچوں میں پگھلتے ہوئے

تیری کٹھنائیوں سے بھری راہ کو 

روشنی سے سجاتے رہے

یونہی جلتے رہے

اپنے اندر کی کالک چھپاتے رہے

اے خوشا کہ انہیں تیری جانب سے کچھ تو ملا

وہ سیاہ بخت ہونے کا طعنہ سہی

کاش تُو جانتا کہ یہ بختِ سیاہ

تیری راہوں کو روشن کیے جانے میں

ہم پہ وارد ہوا

ہم نے ہنس کے لیا


سارہ تعبیر

No comments:

Post a Comment