Monday, 4 July 2022

کوئی رنگ دل پہ چڑھا نہیں

 کوئی رنگ دل پہ چڑھا نہیں


مِری جان

دشت سلوک میں

مجھے جس مقام پہ چھوڑ کر

یہ سفال رابطہ توڑ کر

ذرا آگ لینے گئے تھے تم

میں رکا ہوا ہوں اسی جگہ

سر مو بھی آگے بڑھا نہیں

مِری جان

مجھ پہ یہ بار ہیں

مِرے آئینے کا غبار ہیں

یہ تمہارے ریشمی تار ہیں

یہ تمہاری سوزن سیم ہے

یہ مِری وہ سادہ گلیم ہے

کوئی پھول جس پہ کڑھا نہیں

مِری جان

تم سے نہیں گِلہ

یہ نصیب کا ہے معاملہ

مِرے وقت ہی میں لکھا نہ تھا

کہ تمہارے خرکۂ خاص کا

کوئی رنگ دل پہ چڑھا نہیں


معین نظامی

No comments:

Post a Comment