Showing posts with label عقیل ملک. Show all posts
Showing posts with label عقیل ملک. Show all posts

Friday, 12 January 2024

کتنی ہے مشکبو مری اردو درود سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کتنی ہے مِشکبِو مِری اردو درودﷺ سے

آراستہ ہیں نظم کے گیسٗو درودﷺ سے

بنتا نہ تھا خیال کوئی سلسبیلِ شوق

پانی ہوئے معانی پرنتو درودﷺ سے

جو تھے دروغ باف اُجڈ بے ادب عرب

شائستہ ہو گئے وہی بدو درودﷺ سے

Wednesday, 13 July 2022

اک طرف وحشت دل ایک طرف غازۂ غم

 اک طرف وحشتِ دل ایک طرف غازۂ غم

کس کو ہے شہر تگ و تاز میں اندازۂ غم

اس نے قوسین بنائے میرے دائیں بائیں

عمر بھر تاکہ نہ بکھرے میرا شیرازۂ غم

آج کی رات یہاں تازہ کمک آنی ہے

آج کی رات کھلا رکھنا ہے دروازۂ غم

Saturday, 16 April 2022

اب تو چلتا ہے فقط سانس گراوٹ سے مرا

 اب تو چلتا ہے فقط سانس گراوٹ سے مِرا

ڈرنے لگتا تھا کبھی دل کسی آہٹ سے مرا

چشمِ اسلوب سے تصویر کیا قامتِ اشک

رنگ بنتا تھا بہر طور بناوٹ سے مرا

دستکیں دینے سے دل ہاتھ میں اُگ آیا ہے

جسم بے طور الجھتا تھا رکاوٹ سے مرا

Saturday, 2 April 2022

عقل سے کار معانی پہ اثر پڑتا ہے

 عقل سے کار معانی پہ اثر پڑتا ہے

تاش کھل جائے تو رانی پہ اثر پڑتا ہے

دل دھڑکنے کا چلن روکنا پڑتا ہے جناب

سانس لینے سے کہانی پہ اثر پڑتا ہے

رکھنا پڑتا ہے یقیں خواہشِ منزل سے الگ

ورنہ،۔ پھر نقل مکانی پہ اثر پڑتا ہے

Wednesday, 16 March 2022

آنکهوں میں چمک آئی دیوار میں در اٹھے

 آنکهوں میں چمک آئی دیوار میں در اٹھے

ہم خوابِ تمنا سے جب نور بسر اٹھے

کچھ آئینہ رنگ آنسو پلکوں پہ اتر آئے

کچھ عکس مگر چشمِ حیرت سے ادھر اٹھے

ہم مست گراں خواباں ہم ہست و عدم تاباں

ہم مہر بہ لب سُوئے وحشت سے اگر اٹھے

Saturday, 5 March 2022

اذن ملتے ہی در میر سے نکلا اک دن

 اِذن ملتے ہی درِ میر سے نکلا اک دن

عشق امکان کی تصویر سے نکلا اک دن

رسیاں ڈال کے گردن سے مجھے کھینچا گیا

پاؤں کیا حلقۂ زنجیر سے نکلا اک دن

میں وہاں دیر سے پہنچا تھا زرِ چشم لیے

طشتِ خورشید بھی تاخیر سے نکلا اک دن

Saturday, 12 February 2022

رہن رکھ آئے تھے سر تیشہ نہیں رکھا تھا

 رہن رکھ آئے تھے سر تیشہ نہیں رکھا تھا

ہم نے دل میں کوئی اندیشہ نہیں رکھا تھا

ہم نے پتھر تو اٹھائے تھے حفاظت کے لیے

اپنے قدموں کو سرِ بیشہ نہیں رکھا تھا

ہفت افلاک کے بخیوں کو رفو کر آئے

ہم نے کھیسے میں کوئی ریشہ نہیں رکھا تھا

Tuesday, 25 January 2022

یہی دروازہ مدینے کی طرف کھلتا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


دل ثنا خیز مہینے کی طرف کھلتا ہے

یہ سرا نور کے زینے کی طرف کھلتا ہے

نعت آور ہوں اگر خواب تو اے موجِ اجل

نیند کا متن بھی جینے کی طرف کھلتا ہے

طے شدہ ہے کہ یہاں شجرۂ خوشبو کا بھرم

آپﷺ کے عین پسینے کی طرف کھلتا ہے

Monday, 24 January 2022

گزر رہی ہے خسارے شمار کرتے ہوئے

 گزر رہی ہے خسارے شمار کرتے ہوئے

وگرنہ پاؤں کہاں تھے غبار کرتے ہوئے

میں ایسے دور سے گزرا کہ پیش تک نہ گئی

میں اس کو بھول گیا انتظار کرتے ہوئے

کمان کھینچ تو بیٹھا میں اک پرندے پر

پھر ایک گرد اٹھی شرمسار کرتے ہوئے

Thursday, 18 November 2021

وسعت عرصۂ دارین میں ہم رہتے ہیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


وسعتِ عرصۂ دارین میں ہم رہتے ہیں

نگہِ سرورِ کونینﷺ میں ہم رہتے ہیں

اک طرف عشقِ علی ایک طرف عشقِ رسول

گویا وجدان کے واوین میں ہم رہتے ہیں

عکسِ خورشیدِ رسالتﷺ سے ہوا ہم پہ کرم

کتنے خوش بخت کہ سُکھ چین میں ہم رہتے ہیں