عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کتنی ہے مِشکبِو مِری اردو درودﷺ سے
آراستہ ہیں نظم کے گیسٗو درودﷺ سے
بنتا نہ تھا خیال کوئی سلسبیلِ شوق
پانی ہوئے معانی پرنتو درودﷺ سے
جو تھے دروغ باف اُجڈ بے ادب عرب
شائستہ ہو گئے وہی بدو درودﷺ سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کتنی ہے مِشکبِو مِری اردو درودﷺ سے
آراستہ ہیں نظم کے گیسٗو درودﷺ سے
بنتا نہ تھا خیال کوئی سلسبیلِ شوق
پانی ہوئے معانی پرنتو درودﷺ سے
جو تھے دروغ باف اُجڈ بے ادب عرب
شائستہ ہو گئے وہی بدو درودﷺ سے
اک طرف وحشتِ دل ایک طرف غازۂ غم
کس کو ہے شہر تگ و تاز میں اندازۂ غم
اس نے قوسین بنائے میرے دائیں بائیں
عمر بھر تاکہ نہ بکھرے میرا شیرازۂ غم
آج کی رات یہاں تازہ کمک آنی ہے
آج کی رات کھلا رکھنا ہے دروازۂ غم
اب تو چلتا ہے فقط سانس گراوٹ سے مِرا
ڈرنے لگتا تھا کبھی دل کسی آہٹ سے مرا
چشمِ اسلوب سے تصویر کیا قامتِ اشک
رنگ بنتا تھا بہر طور بناوٹ سے مرا
دستکیں دینے سے دل ہاتھ میں اُگ آیا ہے
جسم بے طور الجھتا تھا رکاوٹ سے مرا
عقل سے کار معانی پہ اثر پڑتا ہے
تاش کھل جائے تو رانی پہ اثر پڑتا ہے
دل دھڑکنے کا چلن روکنا پڑتا ہے جناب
سانس لینے سے کہانی پہ اثر پڑتا ہے
رکھنا پڑتا ہے یقیں خواہشِ منزل سے الگ
ورنہ،۔ پھر نقل مکانی پہ اثر پڑتا ہے
آنکهوں میں چمک آئی دیوار میں در اٹھے
ہم خوابِ تمنا سے جب نور بسر اٹھے
کچھ آئینہ رنگ آنسو پلکوں پہ اتر آئے
کچھ عکس مگر چشمِ حیرت سے ادھر اٹھے
ہم مست گراں خواباں ہم ہست و عدم تاباں
ہم مہر بہ لب سُوئے وحشت سے اگر اٹھے
اِذن ملتے ہی درِ میر سے نکلا اک دن
عشق امکان کی تصویر سے نکلا اک دن
رسیاں ڈال کے گردن سے مجھے کھینچا گیا
پاؤں کیا حلقۂ زنجیر سے نکلا اک دن
میں وہاں دیر سے پہنچا تھا زرِ چشم لیے
طشتِ خورشید بھی تاخیر سے نکلا اک دن
رہن رکھ آئے تھے سر تیشہ نہیں رکھا تھا
ہم نے دل میں کوئی اندیشہ نہیں رکھا تھا
ہم نے پتھر تو اٹھائے تھے حفاظت کے لیے
اپنے قدموں کو سرِ بیشہ نہیں رکھا تھا
ہفت افلاک کے بخیوں کو رفو کر آئے
ہم نے کھیسے میں کوئی ریشہ نہیں رکھا تھا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
دل ثنا خیز مہینے کی طرف کھلتا ہے
یہ سرا نور کے زینے کی طرف کھلتا ہے
نعت آور ہوں اگر خواب تو اے موجِ اجل
نیند کا متن بھی جینے کی طرف کھلتا ہے
طے شدہ ہے کہ یہاں شجرۂ خوشبو کا بھرم
آپﷺ کے عین پسینے کی طرف کھلتا ہے
گزر رہی ہے خسارے شمار کرتے ہوئے
وگرنہ پاؤں کہاں تھے غبار کرتے ہوئے
میں ایسے دور سے گزرا کہ پیش تک نہ گئی
میں اس کو بھول گیا انتظار کرتے ہوئے
کمان کھینچ تو بیٹھا میں اک پرندے پر
پھر ایک گرد اٹھی شرمسار کرتے ہوئے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
وسعتِ عرصۂ دارین میں ہم رہتے ہیں
نگہِ سرورِ کونینﷺ میں ہم رہتے ہیں
اک طرف عشقِ علی ایک طرف عشقِ رسول
گویا وجدان کے واوین میں ہم رہتے ہیں
عکسِ خورشیدِ رسالتﷺ سے ہوا ہم پہ کرم
کتنے خوش بخت کہ سُکھ چین میں ہم رہتے ہیں