عارفانہ کلام نعتیہ کلام
وسعتِ عرصۂ دارین میں ہم رہتے ہیں
نگہِ سرورِ کونینﷺ میں ہم رہتے ہیں
اک طرف عشقِ علی ایک طرف عشقِ رسول
گویا وجدان کے واوین میں ہم رہتے ہیں
عکسِ خورشیدِ رسالتﷺ سے ہوا ہم پہ کرم
کتنے خوش بخت کہ سُکھ چین میں ہم رہتے ہیں
دل میں اک درد مچلتا ہے مدینے جائیں
اور دن رین اسی بین میں ہم رہتے ہیں
روز لہراتا ہے اک سبز پهریرا سر پر
یعنی شہرِ ثقلینﷺ میں ہم رہتے ہیں
ہم فقیروں کو ضرورت ہے تجلی ان کی
اس لیے سایۂ نعلینﷺ میں ہم رہتے ہیں
ہمیں حاصل ہے عقیل ان کی غلامی کا شرف
سو متانت سے فریقین میں ہم رہتے ہیں
عقیل ملک
No comments:
Post a Comment