عارفانہ کلام نعتیہ کلام
فقیر کا ہے عجب رابطہ مدینے سے
وہ کھو گیا تھا یہاں اور ملا مدینے سے
خدائے پاک ہے رازق، رسولؐ قاسم ہیں
ملا ہے رب سے، ہوا ہے عطا مدینے سے
غلام محو سفر ہے، درود سایہ فگن
سفر بہشت کا ہے، راستہ مدینے سے
نگر ہو داتا کا، اجمیر ہو کہ ہو دہلی
جڑا ہوا ہے ہر اک سلسلہ مدینے سے
در نبیﷺ سے اجازت ہوئی تو نطق ملا
کہ نعت گوئی کی پائی قبا مدینے سے
زمانہ جہل کے اندھے کنوئیں میں گھائل تھا
چراغ علم جلا اور جلا مدینے سے
علاج ہجر مدینہ درود ہے کاشف
سکون دل کی ملی ہے دوا مدینے سے
کاشف عرفان
No comments:
Post a Comment