Showing posts with label ظفر نسیمی. Show all posts
Showing posts with label ظفر نسیمی. Show all posts

Wednesday, 18 February 2026

چھوڑ دو چند لمحوں کو تنہا مجھے اے مرے مشفق مہرباں دوستو

 اشکِ تاباں میں حُسن سحر کی جھلک، زخم دل صورتِ گلستاں دوستو

زندگی موتیوں کی جھمکتی لڑی، زندگی رنگِ گُل کا بیاں دوستو

مل گئے ہیں جو ہم اور تم راہ میں، آؤ آپس میں کچھ دیر دکھ بانٹ لیں

کس نے دیکھی ہے کل آنے والی سحر، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں دوستو

کوئے دلدار کی لالہ گوں سر زمیں، مانگتی ہے خلوصِ وفا کا یقین

اور تو کوئی سوغات ممکن نہیں،  نذر کرتے چلو نقد جاں دوستو

Friday, 7 February 2025

اب تو جگنو بھی نہیں راہ دکھانے والا

 اب تو جگنو بھی نہیں راہ دکھانے والا

شہر میں قید ہوا گاؤں سے آنے والا

پھر وہی عرض مِری حق و صداقت والی

پھر وہی عذر تِرا حیلہ بہانے والا

فرش گل جان کے خاروں پہ قدم رکھتا ہوں

کون ہے میرے لیے پلکیں بچھانے والا

Wednesday, 30 October 2024

نہ چھیڑ نام و نسب اور نسل و رنگ کی بات

 نہ چھیڑ نام و نسب اور نسل و رنگ کی بات 

کہ چل نکلتی ہے اکثر یہیں سے جنگ کی بات

تمہارے شہر میں کس کس کو آئینہ دکھلائیں 

ہزار طرح کے چہرے ہزار رنگ کی بات

ہر ایک بات پہ طعنہ ہر ایک بات پہ طنز 

کبھی تو یار کیا کر کسی سے ڈھنگ کی بات

Sunday, 20 October 2024

عشق میں برباد ہونے پر پشیمانی تو ہے

 عشق میں برباد ہونے پر پشیمانی تو ہے 

پھر بھی میری قدر و قیمت اس نے پہچانی تو ہے

سانس لینا بھی جہاں مشکل ہے اس ماحول میں 

مجھ کو زندہ دیکھ کر لوگوں کو حیرانی تو ہے

غمگساری میری عادت بن گئی ہے کیا کروں 

دوسروں کا غم اٹھانے میں پریشانی تو ہے

Sunday, 13 October 2024

رسوائی کے خیال سے ڈر تو نہیں گئے

 رُسوائی کے خیال سے ڈر تو نہیں گئے

وہ راستہ بدل کے گُزر تو نہیں گئے

ترکِ تعلقات سے تم کو بھی کیا مِلا

ہم بھی غمِ فراق سے مر تو نہیں گئے

ہم پہ ترس نہ کھا ہمیں لاچار دیکھ کر

ہم ٹُوٹ بھر گئے ہیں بکھر تو نہیں گئے