Thursday, 22 October 2026

چلے بھی آؤ کہ دل کو ذرا قرار نہیں

 چلے بھی آؤ کہ دل کو ذرا قرار نہیں

خدا گواہ کہ اب تاب انتظار نہیں

نہیں کہ دل پہ محبت میں اختیار نہیں

نہیں نہیں مجھے فکر مآل کار نہیں

بقدر جوش جنوں چاک ہو گریباں کیا

بہار بھی تو بہ اندازۂ بہار نہیں 

عجیب حال ہے اس دور زرگری میں کہیں

سوائے دل کوئی درد آشنائے یار نہیں

اس کے سوا احتیاط عشق ہو کیا

کہ تیرا غم مری صورت سے آشکار نہیں

نہ جانے کون سا عالم ہے یہ محبت کا

ہمیں خیال ہے اپنا خیال یار نہیں

نگاہ یار نے پہنچا دیا کہاں اختر

کہ ہم کو اپنی نگاہوں کا اعتبار نہیں


احمر رفاعی

ڈاکٹر احمد حسین احمر

No comments:

Post a Comment