چلے بھی آؤ کہ دل کو ذرا قرار نہیں
خدا گواہ کہ اب تاب انتظار نہیں
نہیں کہ دل پہ محبت میں اختیار نہیں
نہیں نہیں مجھے فکر مآل کار نہیں
بقدر جوش جنوں چاک ہو گریباں کیا
بہار بھی تو بہ اندازۂ بہار نہیں
عجیب حال ہے اس دور زرگری میں کہیں
سوائے دل کوئی درد آشنائے یار نہیں
اس کے سوا احتیاط عشق ہو کیا
کہ تیرا غم مری صورت سے آشکار نہیں
نہ جانے کون سا عالم ہے یہ محبت کا
ہمیں خیال ہے اپنا خیال یار نہیں
نگاہ یار نے پہنچا دیا کہاں اختر
کہ ہم کو اپنی نگاہوں کا اعتبار نہیں
احمر رفاعی
ڈاکٹر احمد حسین احمر
No comments:
Post a Comment