Showing posts with label شمشاد حسین. Show all posts
Showing posts with label شمشاد حسین. Show all posts

Wednesday, 6 May 2026

رہزن نے کارواں کو قسطوں میں کر کے لوٹا

وہ اک قدم پہ چھوٹا یہ دو قدم پہ چھوٹا

رہزن نے کارواں کو قسطوں میں کر کے لوٹا

کتنا اداس ہو کر بیٹھا ہوا ہے کوئی

اتنی تو بات طے ہے ساتھی کسی کا چھوٹا

تڑپی ہے آسماں پر جو اس طرح سے بجلی

لگتا ہے اس جہاں میں پھر دل کسی کا ٹوٹا

Tuesday, 27 January 2026

مایوس ہو گئے ہیں وہ ان کے جواب سے

 مایوس ہو گئے ہیں وہ ان کے جواب سے

دنیا تو چل رہی ہے بس اپنے حساب سے

وہ بے نیاز پھر بھی مخاطب نہیں ہوا

ہم نے اسے پکارا ہے کس کس خطاب سے

خود بے نقاب ہو کے سرِ بزم آ گئے

سب کو یہی امید تھی اک بے حجاب سے

Sunday, 25 January 2026

کچھ تو ہونا چاہیے جو سلسلہ جاری رہے

 کچھ تو ہونا چاہیے جو سلسلہ جاری رہے

اک لمحہ زندگی کا ہم پہ کیوں بھاری رہے

آپ نے جب بھی بلایا ہم نے باتیں مان لیں

کیا برا ہے ایک دن تو آپ کی باری رہے

بن گئے محکوم ہم، ہم کو ہے بس ماننا

کام ہے یہ آپ کا فرمان اب جاری رہے

Wednesday, 12 August 2020

بڑھتی ہوئی نفرت کو محبت سے مٹا دے

 بڑھتی ہوئی نفرت کو محبت سے مٹا دے

دنیا کو بھی جینے کا یہ انداز سکھا دے

جاتے ہوئے لمحوں کا ہے بس اتنا تقاضا

بجھتے ہوئے شعلوں کو نہ پھر کوئی ہوا دے

کچھ ایسی خطائیں ہیں جو ہو جاتی ہیں سب سے

مالک پہ یہ چھوڑا ہے وہ جو چاہے سزا دے