وہ اک قدم پہ چھوٹا یہ دو قدم پہ چھوٹا
رہزن نے کارواں کو قسطوں میں کر کے لوٹا
کتنا اداس ہو کر بیٹھا ہوا ہے کوئی
اتنی تو بات طے ہے ساتھی کسی کا چھوٹا
تڑپی ہے آسماں پر جو اس طرح سے بجلی
لگتا ہے اس جہاں میں پھر دل کسی کا ٹوٹا
وہ اک قدم پہ چھوٹا یہ دو قدم پہ چھوٹا
رہزن نے کارواں کو قسطوں میں کر کے لوٹا
کتنا اداس ہو کر بیٹھا ہوا ہے کوئی
اتنی تو بات طے ہے ساتھی کسی کا چھوٹا
تڑپی ہے آسماں پر جو اس طرح سے بجلی
لگتا ہے اس جہاں میں پھر دل کسی کا ٹوٹا
مایوس ہو گئے ہیں وہ ان کے جواب سے
دنیا تو چل رہی ہے بس اپنے حساب سے
وہ بے نیاز پھر بھی مخاطب نہیں ہوا
ہم نے اسے پکارا ہے کس کس خطاب سے
خود بے نقاب ہو کے سرِ بزم آ گئے
سب کو یہی امید تھی اک بے حجاب سے
کچھ تو ہونا چاہیے جو سلسلہ جاری رہے
اک لمحہ زندگی کا ہم پہ کیوں بھاری رہے
آپ نے جب بھی بلایا ہم نے باتیں مان لیں
کیا برا ہے ایک دن تو آپ کی باری رہے
بن گئے محکوم ہم، ہم کو ہے بس ماننا
کام ہے یہ آپ کا فرمان اب جاری رہے
بڑھتی ہوئی نفرت کو محبت سے مٹا دے
دنیا کو بھی جینے کا یہ انداز سکھا دے
جاتے ہوئے لمحوں کا ہے بس اتنا تقاضا
بجھتے ہوئے شعلوں کو نہ پھر کوئی ہوا دے
کچھ ایسی خطائیں ہیں جو ہو جاتی ہیں سب سے
مالک پہ یہ چھوڑا ہے وہ جو چاہے سزا دے