Wednesday, 12 August 2020

بڑھتی ہوئی نفرت کو محبت سے مٹا دے

 بڑھتی ہوئی نفرت کو محبت سے مٹا دے

دنیا کو بھی جینے کا یہ انداز سکھا دے

جاتے ہوئے لمحوں کا ہے بس اتنا تقاضا

بجھتے ہوئے شعلوں کو نہ پھر کوئی ہوا دے

کچھ ایسی خطائیں ہیں جو ہو جاتی ہیں سب سے

مالک پہ یہ چھوڑا ہے وہ جو چاہے سزا دے

فرزانوں سے پوچھا تھا کہ کس بات پہ گم ہیں

کہنے لگے ہنس کے کوئی دیوانہ بنا دے

بے باک سی فطرت پہ انہیں ناز بہت ہے

تہذیبی تقاضے بھی ہیں کچھ ان کو بتا دے

سوچا تھا کہ ان کو کوئی پیغام نہ دیں گے

موسم کا تقاضا ہے کوئی ان کو بلا دے

منزل پہ پہونچنا تو ہے بس کام تمہارا

رہبر کا ہے یہ کام کہ رستے کو بتا دے

گزرے ہوئے لمحوں کو اگر ڈر ہے تو اتنا

شمشاد انہیں ذہن سے اپنے نہ ہٹا دے


شمشاد حسین

No comments:

Post a Comment