سمجھ سکے ہی نہیں باہمی دلائل کو
طویل بحث نے الجھا دیا مسائل کو
تمام رات خلل ڈالتی ہے نیندوں میں
تمیز کون سکھائے گا تیری پائل کو؟
یہ انتظار قیامت ہے، اور برپا ہے
ندی کے دوسری جانب بھی ایک دنیا ہے
خبر نہیں ہے مگر جنگلی قبائل کو
مِری شکست کی خاطر غرور پرور شخص
کرے گا صرف سبھی ممکنہ وسائل کو
کروں گا شاعری اک شخص کی محبت میں
تمام عمر سنبھالوں گا پھر رسائل کو
ہوئی ہے فجر کسی کی اذاں سے وابستہ
سفید نور ملا ہے سیاہی مائل کو
آزاد حسین آزاد
No comments:
Post a Comment