Wednesday, 12 August 2020

طویل بحث نے الجھا دیا مسائل کو

سمجھ سکے ہی نہیں باہمی دلائل کو
طویل بحث نے الجھا دیا مسائل کو
تمام رات خلل ڈالتی ہے نیندوں میں
تمیز کون سکھائے گا تیری پائل کو؟
یہ انتظار قیامت ہے، اور برپا ہے 
میں گھورتا ہوں مسلسل گھڑی کے ڈائل کو
ندی کے دوسری جانب بھی ایک دنیا ہے 
خبر نہیں ہے مگر جنگلی قبائل کو
مِری شکست کی خاطر غرور پرور شخص
کرے گا صرف سبھی ممکنہ وسائل کو  
کروں گا شاعری اک شخص کی محبت میں 
تمام عمر سنبھالوں گا پھر رسائل کو
ہوئی ہے فجر کسی کی اذاں سے وابستہ
سفید نور ملا ہے سیاہی مائل کو

آزاد حسین آزاد

No comments:

Post a Comment