نئے سفر کا جو اعلان بھی نہیں ہوتا
تو زندہ رہنے کا ارمان بھی نہیں ہوتا
تمام پھول🎕 وہی لوگ توڑ لیتے ہیں
جن کے کمروں میں گلدان بھی نہیں ہوتا
خموشی اوڑھ کے سوئی ہیں مسجدیں ساری
وبا" نے کاش ہمیں بھی بلا لیا ہوتا"
تو ہم پر موت کا احسان بھی نہیں ہوتا
راحت اندوری
یہ راحت اندوری کی غزل کے وہ اشعار ہیں جو ان کے بیٹے ستلج اندوری نے عوام سے شیئر کیے ہیں۔
آخری شعر کا پہلا مصرع غالباً قبولیت کی گھڑی میں کہا گیا تھا؛
"وبا نے کاش ہمیں بھی بلا لیا ہوتا"
اور پھر راحت اندوری جی نے کورونا کی موذی وبا کا شکار ہو کر جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
No comments:
Post a Comment