ہوں لاکھ ظلم مگر بددعا نہیں دیں گے
زمین ماں ہے، زمیں کو دغا نہیں دیں گے
ہمیں تو صرف جگانا ہے سونے والوں کو
جو در کھلا ہے وہاں ہم صدا نہیں دیں گے
روایتوں کی صفیں توڑ کر بڑھو، ورنہ
ہم اپنے دل سے تمہیں چاہنے لگے ہیں مگر
خطا معاف، کہ گھر کا پتہ نہیں دیں گے
شراب پی کے بڑے تجربے ہوئے ہیں ہمیں
شریف لوگوں کو ہم مشورہ نہیں دیں گے
راحت اندوری
No comments:
Post a Comment