Showing posts with label فرحانہ عنبر. Show all posts
Showing posts with label فرحانہ عنبر. Show all posts

Wednesday, 5 August 2026

چاک پر رکھ مجھے گھما پھر سے

 چاک پر رکھ مجھے گھما پھر سے

معجزہ کوزہ گر دکھا پھرسے

میری دم توڑتی امنگوں کو

بخش جینے کا حوصلہ پھر سے

اے دلِ بے قرار کس کے لیے

لب پہ ٹھہری ہے اک دعا پھر سے

Wednesday, 22 July 2026

شہرت کے ستائش کے طلبگار بہت تھے

 شہرت کے ستائش کے طلبگار بہت تھے

یہ لوگ کبھی ہم سے وفادار بہت تھے

میں نے ہی تِرے بعد سنبھالے اسے رکھا

ورنہ تو مِرے دل کے خریدار بہت تھے

کب میں نے کبھی چارہ گرو تم کو پکارا

مُشکل میں سہارے مجھے دو چار بہت تھے

Thursday, 8 May 2025

نہ جانے آج کیوں ضد پر اڑی ہے

 نہ جانے آج کیوں ضد پر اڑی ہے

محبت سامنے میرے کھڑی ہے

زمانے کو بڑھاوے کی ہے عادت

وگرنہ بات کب اتنی بڑی ہے

بھلا کیوں وقت بھاگا جا رہا ہے

گھڑی تو سامنے میرے پڑی ہے

Sunday, 4 May 2025

راکھ کر دے گی یہ چمن سائیں

 راکھ کر دے گی یہ چمن سائیں

اب کے بھڑکی ہے جو اگن سائیں

چند لمحوں میں کیسے اُترے گی

یہ جو صدیوں کی ہے تھکن سائیں

دیکھنے سے تِرے سنورتے ہیں

حُسن،۔ تقدیر،۔ بانکپن سائیں

Wednesday, 19 June 2024

خوشیوں کے ہر اک پل سے رہی دور رعایا

 خوشیوں کے ہر اک پل سے رہی دور رعایا

شاہا! یہ تِرے ملک کی مجبور رعایا

صدیوں سے غلامی کی سزا کاٹ رہی ہے

یہ جبر کے زندان میں محصور رعایا

کیسا یہ تِرا عدل ہے کیسا ہے ترازو 

روشن ہے محل تیرا تو بے نور رعایا

Tuesday, 4 June 2024

ایک پرانی شب کا دکھ ہے

 ایک پرانی شب کا دُکھ ہے

کیا بتلاؤں کب کا دکھ ہے

اک لمحے میں کیسے کہہ دوں

کیا یہ کوئی اب کا دکھ ہے؟

پہلی بار جب اس نے مجھ سے

آنکھ چرائی تب کا دکھ ہے

Monday, 3 June 2024

یوں آب و ہوا روح کو بھائی ترے در کی

  عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یوں آب و ہوا رُوح کو بھائی تِرےﷺ در کی

ہر سانس میں خُوشبو ہے سمائی ترےؐ در کی

قاسم نہ سخی اور ہے کونین میں تجھ سا

خیرات جہاں بھر نے ہے کھائی ترےؐ در کی

اک بار ملے اذنِ حضوری مجھے آقاﷺ

پلکوں سے کروں آ کے صفائی ترےؐ در کی