چاک پر رکھ مجھے گھما پھر سے
معجزہ کوزہ گر دکھا پھرسے
میری دم توڑتی امنگوں کو
بخش جینے کا حوصلہ پھر سے
اے دلِ بے قرار کس کے لیے
لب پہ ٹھہری ہے اک دعا پھر سے
چاک پر رکھ مجھے گھما پھر سے
معجزہ کوزہ گر دکھا پھرسے
میری دم توڑتی امنگوں کو
بخش جینے کا حوصلہ پھر سے
اے دلِ بے قرار کس کے لیے
لب پہ ٹھہری ہے اک دعا پھر سے
شہرت کے ستائش کے طلبگار بہت تھے
یہ لوگ کبھی ہم سے وفادار بہت تھے
میں نے ہی تِرے بعد سنبھالے اسے رکھا
ورنہ تو مِرے دل کے خریدار بہت تھے
کب میں نے کبھی چارہ گرو تم کو پکارا
مُشکل میں سہارے مجھے دو چار بہت تھے
نہ جانے آج کیوں ضد پر اڑی ہے
محبت سامنے میرے کھڑی ہے
زمانے کو بڑھاوے کی ہے عادت
وگرنہ بات کب اتنی بڑی ہے
بھلا کیوں وقت بھاگا جا رہا ہے
گھڑی تو سامنے میرے پڑی ہے
راکھ کر دے گی یہ چمن سائیں
اب کے بھڑکی ہے جو اگن سائیں
چند لمحوں میں کیسے اُترے گی
یہ جو صدیوں کی ہے تھکن سائیں
دیکھنے سے تِرے سنورتے ہیں
حُسن،۔ تقدیر،۔ بانکپن سائیں
خوشیوں کے ہر اک پل سے رہی دور رعایا
شاہا! یہ تِرے ملک کی مجبور رعایا
صدیوں سے غلامی کی سزا کاٹ رہی ہے
یہ جبر کے زندان میں محصور رعایا
کیسا یہ تِرا عدل ہے کیسا ہے ترازو
روشن ہے محل تیرا تو بے نور رعایا
ایک پرانی شب کا دُکھ ہے
کیا بتلاؤں کب کا دکھ ہے
اک لمحے میں کیسے کہہ دوں
کیا یہ کوئی اب کا دکھ ہے؟
پہلی بار جب اس نے مجھ سے
آنکھ چرائی تب کا دکھ ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یوں آب و ہوا رُوح کو بھائی تِرےﷺ در کی
ہر سانس میں خُوشبو ہے سمائی ترےؐ در کی
قاسم نہ سخی اور ہے کونین میں تجھ سا
خیرات جہاں بھر نے ہے کھائی ترےؐ در کی
اک بار ملے اذنِ حضوری مجھے آقاﷺ
پلکوں سے کروں آ کے صفائی ترےؐ در کی