Showing posts with label عنایت امین. Show all posts
Showing posts with label عنایت امین. Show all posts

Friday, 20 February 2026

خوشی ہو یا کہ غم کوئی ہمیشہ ساتھ چلتا ہے

 خوشی ہو یا کہ غم کوئی ہمیشہ ساتھ چلتا ہے

تمہاری یاد کا ننھا فرشتہ ساتھ چلتا ہے

وفاداری نبھانے کا ہنر اس سے کوئی سیکھے

کٹے ہیں سارے پر، پھر بھی پرندہ ساتھ چلتا ہے

میں چاہوں بھی تو جُھٹلا نہ سکوں گا تیری اُلفت کو

ابھی تک تیری اُلفت کا وہ تحفہ ساتھ چلتا ہے

Friday, 15 November 2024

ثنا بیان کروں تیری مری مجال نہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ثنا بیان کروں تیری مِری مجال نہیں

کہ صدیاں چاہیے لکھنے کو مہ و سال نہیں

تخیلات کی جنبش بھی تیری مرضی پر

مِرا خیال بھی آخر مِرا خیال نہیں

جہاں بھی ٹہرے نظر تیرا جلوہ پائے ہے

تُو لا زوال ہے ہر گز تِرا زوال نہیں

Thursday, 14 November 2024

پھینکے جو میں نے سکے تو رشتہ بدل گیا

 پھینکے جو میں نے سکے تو رشتہ بدل گیا

سرکاری اسپتال میں بچہ بدل گیا

سوچا تھا آسمانوں کو چھو لیں گے ایک دن

آ کر تمہارے گاؤں میں حلیہ بدل گیا

پیسہ کمانے عورتیں گھر سے نکل پڑیں

اکیسویں صدی کا تقاضہ بدل گیا

Wednesday, 13 November 2024

تاج باقی ہیں نہ محلات خدا خیر کرے

 تاج باقی ہیں نہ محلات خدا خیر کرے

چھوڑ دو یارو! خرافات خدا خیر کرے

مدتوں بعد گلے مل گئے دشمن سارے

اب سُدھرنے کو ہیں حالات خدا خیر کرے

پیٹ کی آگ نے دنیا ہی جلا کر رکھ دی

اب نہ باقی رہے جذبات خدا خیر کرے

Tuesday, 9 February 2021

بہلانے سے دل میرا بہلتا بھی نہیں ہے

بہلانے سے دل میرا بہلتا بھی نہیں ہے

اب گھر میں کوئی کھیلتا بچہ بھی نہیں ہے

ٹوٹی ہوئی کشتی کا بھروسہ بھی نہیں ہے

رکنے کو سمندر میں جزیرہ بھی نہیں ہے

لگتی ہے بہر گام ہمیں عشق میں ٹھوکر

ہم سا کوئی پامالِ تمنا بھی نہیں ہے