Tuesday, 9 February 2021

بہلانے سے دل میرا بہلتا بھی نہیں ہے

بہلانے سے دل میرا بہلتا بھی نہیں ہے

اب گھر میں کوئی کھیلتا بچہ بھی نہیں ہے

ٹوٹی ہوئی کشتی کا بھروسہ بھی نہیں ہے

رکنے کو سمندر میں جزیرہ بھی نہیں ہے

لگتی ہے بہر گام ہمیں عشق میں ٹھوکر

ہم سا کوئی پامالِ تمنا بھی نہیں ہے

سمجھاتے ہیں وہ پست و فرازِ رہِ دنیا

جن میں کوئی جینے کا سلیقہ بھی نہیں ہے

پھرتا ہوں تنِ تنہا بھرے میلے میں کب سے

تا حدِ نظر کوئی شناسا بھی نہیں ہے

کج خلقئ دنیا کو ڈبو دیتے کہیں ہم

اخلاص کا بہتا ہوا دریا بھی نہیں ہے

یاد اس کی ہر اک زخمِ جگر کرتی ہے تازہ

اور اس کو بھُلانے کا ارادہ بھی نہیں ہے

میں قافلہ والوں کے سہارے پہ رہوں کیوں

منزل مِری دُور اتنی زیادہ بھی نہیں ہے

کہیے تو امین! اپنا کسے کہیے جہاں میں

اوروں کا تو کیا دل کا بھروسہ بھی نہیں ہے


عنایت امین

No comments:

Post a Comment