بہلانے سے دل میرا بہلتا بھی نہیں ہے
اب گھر میں کوئی کھیلتا بچہ بھی نہیں ہے
ٹوٹی ہوئی کشتی کا بھروسہ بھی نہیں ہے
رکنے کو سمندر میں جزیرہ بھی نہیں ہے
لگتی ہے بہر گام ہمیں عشق میں ٹھوکر
ہم سا کوئی پامالِ تمنا بھی نہیں ہے
سمجھاتے ہیں وہ پست و فرازِ رہِ دنیا
جن میں کوئی جینے کا سلیقہ بھی نہیں ہے
پھرتا ہوں تنِ تنہا بھرے میلے میں کب سے
تا حدِ نظر کوئی شناسا بھی نہیں ہے
کج خلقئ دنیا کو ڈبو دیتے کہیں ہم
اخلاص کا بہتا ہوا دریا بھی نہیں ہے
یاد اس کی ہر اک زخمِ جگر کرتی ہے تازہ
اور اس کو بھُلانے کا ارادہ بھی نہیں ہے
میں قافلہ والوں کے سہارے پہ رہوں کیوں
منزل مِری دُور اتنی زیادہ بھی نہیں ہے
کہیے تو امین! اپنا کسے کہیے جہاں میں
اوروں کا تو کیا دل کا بھروسہ بھی نہیں ہے
عنایت امین
No comments:
Post a Comment