لفظوں کی توقیر بڑھاتے رہتے ہیں
حُسن ترا تحریر میں لاتے رہتے ہیں
انہیں کھلونے دینا مشکل ہے لیکن
ہم بچوں کو خواب دکھاتے رہتے ہیں
گونگے بہرے حاکم کے دربار میں ہم
جانے کیوں زنجیر ہلاتے رہتے ہیں
روز ہمارے سر کی قیمت لگتی ہے
ہم اپنی دستار بچاتے رہتے ہیں
اُس نے ہمیں مہمان کہا تھا کاشفؔ جی
اور مہمان تو آتے جاتے رہتے ہیں
کاشف کمال
No comments:
Post a Comment