ثنائے سرورِ عالم کا جام کب دو گے
مری زبان کو اذنِ کلام کب دو گے
عطائیں حد سے زیادہ ہیں پر مِرا تم سے
وہی سوال ! مدینے کی شام کب دو گے
تڑپ رہا ہے تخیل اسی سراپے کو
غزل کو نعت کا حسنِ کلام کب دو گے
ہمارے خون سے ہولی بھی ہو چکی اب تو
امیرِ شہر کو آخر لگام کب دو گے
خدایا امن کی طالب ہے اب زمیں تم سے
بلکتی چیختی رادھا کو شام کب دو گے
خالد ندیم شانی
No comments:
Post a Comment