Tuesday, 9 February 2021

یہاں ہر لفظ معنی سے جدا ہے

 یہاں ہر لفظ معنی سے جدا ہے

حقیقت زندگی سے ماورا ہے

ابھی چہرے کا خاکہ بن رہا ہے

ابھی کچھ اور بھی میرے سوا ہے

ہمیں جو کچھ ملا ناقص ملا ہے

مگر خوش فہمیوں کی انتہا ہے

کوئی چہرہ نہیں خوشبو کا لیکن

تماشا پھول والوں کا لگا ہے

میں اس کی بارشوں کا منتظر ہوں

وہ مجھ سے میرے آنسو مانگتا ہے

یہی باعث ہے میری تشنگی کا

سمندر مجھ سے پانی مانگتا ہے

جہالت روگ تھا جو دل کے اندر

وہی مذہب ہمارا ہو گیا ہے

مقدس ہو گیا ہے جھوٹ میرا

مجھے تو اب اسی کا آسرا ہے

میں پیاسا ہوں پرانے موسموں کا

یہی باعث ہے میری تشنگی کا

سمندر مجھ سے پانی مانگتا ہے

جہالت روگ تھا جو دل کے اندر

وہی مذہب ہمارا ہو گیا ہے

مقدس ہو گیا ہے جھوٹ میرا

وگرنہ بحر و بر بھی حاشیہ ہے

نہیں ہے خواب سی تصویر جس کی

تو پھر اس خواب کی تعبیر کیا ہے

گماں ہنگامہ آرائی کا عادی

یقیں تنہائیوں میں بولتا ہے

یہ دنیا بے خبر لوگوں کی

وہ دنیا کا نہیں جو جانتا ہے


احمد شناس

No comments:

Post a Comment