سفر سے لوٹ جانا چاہتا ہے
پرندہ آشیانہ چاہتا ہے🕊
کوئی سکول کی گھنٹی بجا دے
یہ بچہ مسکرانا چاہتا ہے
یہاں سانسوں کے لالے پڑ رہے ہیں
وہ پاگل زہر کھانا چاہتا ہے
جسے بھی ڈوبنا ہو ڈوب جائے
سمندر سوکھ جانا چاہتا ہے
ہمارا حق دبا رکھا ہے جس نے
سنا ہے حج کو جانا چاہتا ہے
شکیل جمالی
No comments:
Post a Comment