Showing posts with label اویس ویسی. Show all posts
Showing posts with label اویس ویسی. Show all posts

Tuesday, 27 December 2022

لگا کر عمر جو پایا گیا ہے

 لگا کر عمر جو پایا گیا ہے

میرا وہ خوابی سرمایہ گیا ہے

ہمارے گھر کی بربادی میں ویسی

تمہارا ہاتھ بھی پایا گیا ہے

میں اس لشکر کا فوجی ہی نہیں تھا

زبردستی مجھے لایا گیا ہے

Friday, 15 July 2022

وحشت کے سدباب کا کچھ حل نکال دوست

 وحشت کے سدِباب کا کچھ حل نکال دوست

رسی کو صرف دیکھ لے اور بَل نکال دوست

کردار ٹِک نہیں رہے منزل کے خوف سے 

ناٹک کے اختتام سے مقتل نکال دوست

چابی کا کام اس جگہ کرتی ہیں چُٹکیاں 

میں ہو گیا ہوں تجھ میں مقفل، نکال دوست

Tuesday, 28 June 2022

ہمارے دل کو بس ایک کھٹکا لگا ہوا ہے

 ہمارے دل کو بس ایک کھٹکا لگا ہوا ہے

یہاں شجر تھا، جہاں پہ کھمبا لگا ہوا ہے

کہیں ملے تو تِرے حوالے کریں گے خود کو

کچھ اور دن رُک، ہمارا پیچھا لگا ہوا ہے

تمام خوش ہیں کہ مل کے بیٹھے ہیں آج سارے

ہمارے دل میں دُکھوں کا میلہ لگا ہوا ہے

Monday, 22 November 2021

جو جہاں ہے وہیں پہ رہنے دو

 جو جہاں ہے وہیں پہ رہنے دو

تم زمیں کو زمیں پہ رہنے دو

میری رگ رگ میں رہنے والے تم

اب مجھے بھی کہیں پہ رہنے دو

تم پرندے ہو، تم چلے جاؤ

اس شجر کو یہیں پہ رہنے دو

Sunday, 21 November 2021

وحشت کے سدِباب کا کچھ حل نکال دوست

 وحشت کے سدِباب کا کچھ حل نکال دوست

رسی کو صرف دیکھ لے اور بَل نکال دوست

کردار ٹِک نہیں رہے منزل کے خوف سے 

ناٹک کے اختتام سے مقتل نکال دوست

چابی کا کام اس جگہ کرتی ہیں چُٹکیاں 

میں ہو گیا ہوں تجھ میں مقفل، نکال دوست

Saturday, 20 November 2021

در و دیوار ایسے دیکھتے ہیں

 در و دیوار ایسے دیکھتے ہیں

غذا کو جیسے بھوکے دیکھتے ہیں

میں اپنے سر پہ پتھر مارتا ہوں

مجھے حیرت سے شیشے دیکھتے ہیں

اسے دیکھیں تو گونگے بولتے ہیں

اُسے سن لیں تو اندھے دیکھتے ہیں

Friday, 19 November 2021

وہ کہہ رہا ہے تو مان لیتے ہیں یار سارے ہی ہم غلط تھے

 وہ کہہ رہا ہے تو مان لیتے ہیں یار! سارے ہی ہم غلط تھے

مگر جو تھوڑے سے تم غلط تھے، ہم اس سے تھوڑا سا کم غلط تھے

کچھ اس لیے بھی ہماری آہیں تمہارے دل تک پہنچ نہ پائیں

کہیں پہ اپنی زباں غلط تھی، کہیں پہ اپنے رِدھم غلط تھے

تھے وہ پرندے سو اس لیے ہی، نئی رُتوں میں وطن کو چھوڑا

سو ان کے پیچھے بلکنے والے، تمام پیڑوں کے غم غلط تھے

Friday, 24 September 2021

میرے شہر میں آئی ہے دیہاتی لڑکی

 دیہاتی لڑکی


سچی بات پہ جھوٹی قسمیں کھاتی لڑکی

میرے شہر میں آئی ہے دیہاتی لڑکی

ہنستی ہے تو گال بھنور دکھلاتے ہیں

دائیں ہونٹ پہ تِل ہے، اور شرماتی لڑکی

میرے شہر میں آئی ہے دیہاتی لڑکی

Monday, 20 September 2021

کوئی جنت تو کوئی قرب خدا مانگتا ہے

 کوئی جنت تو کوئی قربِ خدا مانگتا ہے

تیرا درویش مگر، تیری رضا مانگتا ہے

اس کی نظریں ہیں تِرے پاس کی کرسی پہ جمی

صاف ظاہر ہے کہ پہلو میں جگہ مانگتا ہے

ایسی لذت تِرے دھوکے نے عطا کی ہے اسے

اب اگر مانگتا کچھ ہے تو دغا مانگتا ہے

Wednesday, 3 February 2021

داستاں میری زندگانی کی

 داستاں میری زندگانی کی

ہے یہ تفسیر رائیگانی کی

میں بنا دشت ایک دریا سے

مجھ سے بنتی نہیں تھی پانی کی

ایک انسان ہو گیا ملبہ 

داد بنتی ہے بے دھیانی کی