لگا کر عمر جو پایا گیا ہے
میرا وہ خوابی سرمایہ گیا ہے
ہمارے گھر کی بربادی میں ویسی
تمہارا ہاتھ بھی پایا گیا ہے
میں اس لشکر کا فوجی ہی نہیں تھا
زبردستی مجھے لایا گیا ہے
لگا کر عمر جو پایا گیا ہے
میرا وہ خوابی سرمایہ گیا ہے
ہمارے گھر کی بربادی میں ویسی
تمہارا ہاتھ بھی پایا گیا ہے
میں اس لشکر کا فوجی ہی نہیں تھا
زبردستی مجھے لایا گیا ہے
وحشت کے سدِباب کا کچھ حل نکال دوست
رسی کو صرف دیکھ لے اور بَل نکال دوست
کردار ٹِک نہیں رہے منزل کے خوف سے
ناٹک کے اختتام سے مقتل نکال دوست
چابی کا کام اس جگہ کرتی ہیں چُٹکیاں
میں ہو گیا ہوں تجھ میں مقفل، نکال دوست
ہمارے دل کو بس ایک کھٹکا لگا ہوا ہے
یہاں شجر تھا، جہاں پہ کھمبا لگا ہوا ہے
کہیں ملے تو تِرے حوالے کریں گے خود کو
کچھ اور دن رُک، ہمارا پیچھا لگا ہوا ہے
تمام خوش ہیں کہ مل کے بیٹھے ہیں آج سارے
ہمارے دل میں دُکھوں کا میلہ لگا ہوا ہے
جو جہاں ہے وہیں پہ رہنے دو
تم زمیں کو زمیں پہ رہنے دو
میری رگ رگ میں رہنے والے تم
اب مجھے بھی کہیں پہ رہنے دو
تم پرندے ہو، تم چلے جاؤ
اس شجر کو یہیں پہ رہنے دو
وحشت کے سدِباب کا کچھ حل نکال دوست
رسی کو صرف دیکھ لے اور بَل نکال دوست
کردار ٹِک نہیں رہے منزل کے خوف سے
ناٹک کے اختتام سے مقتل نکال دوست
چابی کا کام اس جگہ کرتی ہیں چُٹکیاں
میں ہو گیا ہوں تجھ میں مقفل، نکال دوست
در و دیوار ایسے دیکھتے ہیں
غذا کو جیسے بھوکے دیکھتے ہیں
میں اپنے سر پہ پتھر مارتا ہوں
مجھے حیرت سے شیشے دیکھتے ہیں
اسے دیکھیں تو گونگے بولتے ہیں
اُسے سن لیں تو اندھے دیکھتے ہیں
وہ کہہ رہا ہے تو مان لیتے ہیں یار! سارے ہی ہم غلط تھے
مگر جو تھوڑے سے تم غلط تھے، ہم اس سے تھوڑا سا کم غلط تھے
کچھ اس لیے بھی ہماری آہیں تمہارے دل تک پہنچ نہ پائیں
کہیں پہ اپنی زباں غلط تھی، کہیں پہ اپنے رِدھم غلط تھے
تھے وہ پرندے سو اس لیے ہی، نئی رُتوں میں وطن کو چھوڑا
سو ان کے پیچھے بلکنے والے، تمام پیڑوں کے غم غلط تھے
دیہاتی لڑکی
سچی بات پہ جھوٹی قسمیں کھاتی لڑکی
میرے شہر میں آئی ہے دیہاتی لڑکی
ہنستی ہے تو گال بھنور دکھلاتے ہیں
دائیں ہونٹ پہ تِل ہے، اور شرماتی لڑکی
میرے شہر میں آئی ہے دیہاتی لڑکی
کوئی جنت تو کوئی قربِ خدا مانگتا ہے
تیرا درویش مگر، تیری رضا مانگتا ہے
اس کی نظریں ہیں تِرے پاس کی کرسی پہ جمی
صاف ظاہر ہے کہ پہلو میں جگہ مانگتا ہے
ایسی لذت تِرے دھوکے نے عطا کی ہے اسے
اب اگر مانگتا کچھ ہے تو دغا مانگتا ہے
داستاں میری زندگانی کی
ہے یہ تفسیر رائیگانی کی
میں بنا دشت ایک دریا سے
مجھ سے بنتی نہیں تھی پانی کی
ایک انسان ہو گیا ملبہ
داد بنتی ہے بے دھیانی کی