وہ کہہ رہا ہے تو مان لیتے ہیں یار! سارے ہی ہم غلط تھے
مگر جو تھوڑے سے تم غلط تھے، ہم اس سے تھوڑا سا کم غلط تھے
کچھ اس لیے بھی ہماری آہیں تمہارے دل تک پہنچ نہ پائیں
کہیں پہ اپنی زباں غلط تھی، کہیں پہ اپنے رِدھم غلط تھے
تھے وہ پرندے سو اس لیے ہی، نئی رُتوں میں وطن کو چھوڑا
سو ان کے پیچھے بلکنے والے، تمام پیڑوں کے غم غلط تھے
مِری دعا ہے کہ وہ مسافر بھی اپنی منزل کو پائے لیکن
تمام رستے بتا رہے ہیں، گزرنے والے قدم غلط تھے
تِرے بدن پر لگے نشاں ہی بتا رہے ہیں مجھے یہ ویسی
تُو جن کو سچا بتا رہا تھا وہ سب خدا کی قسم غلط تھے
اویس احمد ویسی
No comments:
Post a Comment