مضطرِب خاک ہوں میں نور کا پیکر تم ہو
جسم میرا ہے مگر، جسم کے اندر تم ہو
یعنی تم پر ہی محبت کے صحیفے اترے
مذہبِ عشق کے اکلوتے پیمبر تم ہو
دینِ عشاق پہ قائم ہوں، یہی مسلک ہے
میرا ایمان ہے، صحرا کے قلندر تم ہو
اور کیا چاہیے، اس عہدِ منافق سے مجھے
بس یہی کافی ہے مرشد! مِرے سر پر تم ہو
ہم ہیں ساداتِ محبت، مگر اے خاک نشیں
ملکِ عشاق کے بے تاج سکندر تم ہو
میری آنکھوں کی تو حد دیکھنا ہے، دیکھتا ہوں
اس سے اگے مِری بینائی کے رہبر تم ہو
یہ کوئی اور نہیں آگ پہ رقصاں مجھ میں
میں تو باہر ہوں، مِری ذات کے اندر تم ہو
ہم تمہیں ذات میں محدود نہیں کر سکتے
حضرتِ عشق! دو عالم کے برابر تم ہو
بند آنکھوں سے تمہیں دیکھ رہی ہے دنیا
میں تو اک مخفی خزانہ ہوں، اُجاگر تم ہو
دل کے صحراؤں میں رہتے ہو اماموں کی طرح
پھر بھی دنیا تمہیں کہتی ہے کہ بے گھر تم ہو
حضرتِ عشق مجھے خواب میں ملنے آئے
اس کا مطلب ہے کہ اب میرا مقدر تم ہو
ہاشمی! دشت میں روحوں کا یہ سودا کیسا
صاحبِ عشق نہیں ہو، نہ ٭بہتّر٭ تم ہو
نوید حیدر ہاشمی
٭72٭
No comments:
Post a Comment