Showing posts with label عبداللہ خالد. Show all posts
Showing posts with label عبداللہ خالد. Show all posts

Thursday, 3 February 2022

رہ وفا میں بس اک دن قدم اٹھایا تھا

 رہِ وفا میں بس اک دن قدم اٹھایا تھا

پھر اس کے بعد کہیں دھوپ تھی نہ سایا تھا

جہاں نے ایک معمہ بنا دیا، ورنہ

مِرے خدا نے مجھے آدمی بنایا تھا

مگر یہ کیا کہ خود اپنا ہی منہ چھپانے لگا

وہ شخص جس نے مجھے آئینہ دکھایا تھا

Tuesday, 28 December 2021

قدم قدم پہ ہے برق و شرار کی دستک

 قدم قدم پہ ہے برق و شرار کی دستک

درونِ نظمِ عمل انتشار کی دستک

نوائے غنچہ و گل ہو کہ خار کی دستک

برائے فکر و نظر ہے بہار کی دستک

وگرنہ گریہ و ماتم ہے جس طرف دیکھو

کسی کسی کو خوش آتی ہے پیار کی دستک

Saturday, 18 December 2021

اک شہر ناسپاس کا نوحہ ہے اور میں

 اک شہرِ نا سپاس کا نوحہ ہے اور میں

اب صبح و شام وسعتِ صحرا ہے اور میں

امید و انتظار کا وقفہ ہے اور میں

دل ہے وہ نیم باز دریچہ ہے اور میں

پھر نکہتِ صبا کے تعاقب کا ہے جنوں

پھر دل لگی کا ایک وسیلہ ہے اور میں

Wednesday, 8 December 2021

حسین آئے نظر ساری کائنات مجھے

 حسین آئے نظر ساری کائنات مجھے

سرابِ کوچہ نوردی سے دے نجات مجھے

فریبِ رنگ سے خیرہ ہیں یوں مِری آنکھیں

نہ دن ہی دن نظر آئے، نہ رات رات مجھے

اِدھر عروسِ سخن منتیں کرے میری

اُدھر صدائیں لگاتے ہیں حادثات مجھے

Tuesday, 7 December 2021

آوارگی کے نقش ابھر کر بکھر گئے

 آوارگی کے نقش اُبھر کر بکھر گئے

وہ شب گزار لوگ نہ جانے کدھر گئے

تجدیدِ دوستی کے سبب یہ ہوا ضرور

کچھ زخم تازہ ہو گئے کچھ زخم بھر گئے

آئے تو ہاتھوں ہاتھ لیا،۔ اور دمِ وِداع

کاندھوں پہ سب اُٹھائے ہمیں چھوڑ کر گئے

Monday, 13 September 2021

جنون شوق یہ کیا مرحلہ ہے

 جنون شوق یہ کیا مرحلہ ہے

کہ ہر قربت کا مطلب فاصلہ ہے

نئی آنکھیں نئے منظر نئی رت

نئے افکار کا پھر سلسلہ ہے

بتائے گا پتہ کیا تجھ کو تیرا

یہاں ہر شخص خود ہی لاپتہ ہے

Thursday, 9 September 2021

مسلسل خوف ہے اب تو کہیں ایسا نہ ہو جائے

 مسلسل خوف ہے اب تو کہیں ایسا نہ ہو جائے

مِری ارض وطن میرے لیے برما نہ ہو جائے

چلے اک دور ایسا بھی سرِ مے خانۂ ہستی

جنوں بن جائے صہبا اور خرد پیمانہ ہو جائے

مِرے صبر و تحمل کو ہنسی میں ٹالنے والے

کسی دن میری خاموشی سخن آسا نہ ہو جائے