رہِ وفا میں بس اک دن قدم اٹھایا تھا
پھر اس کے بعد کہیں دھوپ تھی نہ سایا تھا
جہاں نے ایک معمہ بنا دیا، ورنہ
مِرے خدا نے مجھے آدمی بنایا تھا
مگر یہ کیا کہ خود اپنا ہی منہ چھپانے لگا
وہ شخص جس نے مجھے آئینہ دکھایا تھا
رہِ وفا میں بس اک دن قدم اٹھایا تھا
پھر اس کے بعد کہیں دھوپ تھی نہ سایا تھا
جہاں نے ایک معمہ بنا دیا، ورنہ
مِرے خدا نے مجھے آدمی بنایا تھا
مگر یہ کیا کہ خود اپنا ہی منہ چھپانے لگا
وہ شخص جس نے مجھے آئینہ دکھایا تھا
قدم قدم پہ ہے برق و شرار کی دستک
درونِ نظمِ عمل انتشار کی دستک
نوائے غنچہ و گل ہو کہ خار کی دستک
برائے فکر و نظر ہے بہار کی دستک
وگرنہ گریہ و ماتم ہے جس طرف دیکھو
کسی کسی کو خوش آتی ہے پیار کی دستک
اک شہرِ نا سپاس کا نوحہ ہے اور میں
اب صبح و شام وسعتِ صحرا ہے اور میں
امید و انتظار کا وقفہ ہے اور میں
دل ہے وہ نیم باز دریچہ ہے اور میں
پھر نکہتِ صبا کے تعاقب کا ہے جنوں
پھر دل لگی کا ایک وسیلہ ہے اور میں
حسین آئے نظر ساری کائنات مجھے
سرابِ کوچہ نوردی سے دے نجات مجھے
فریبِ رنگ سے خیرہ ہیں یوں مِری آنکھیں
نہ دن ہی دن نظر آئے، نہ رات رات مجھے
اِدھر عروسِ سخن منتیں کرے میری
اُدھر صدائیں لگاتے ہیں حادثات مجھے
آوارگی کے نقش اُبھر کر بکھر گئے
وہ شب گزار لوگ نہ جانے کدھر گئے
تجدیدِ دوستی کے سبب یہ ہوا ضرور
کچھ زخم تازہ ہو گئے کچھ زخم بھر گئے
آئے تو ہاتھوں ہاتھ لیا،۔ اور دمِ وِداع
کاندھوں پہ سب اُٹھائے ہمیں چھوڑ کر گئے
جنون شوق یہ کیا مرحلہ ہے
کہ ہر قربت کا مطلب فاصلہ ہے
نئی آنکھیں نئے منظر نئی رت
نئے افکار کا پھر سلسلہ ہے
بتائے گا پتہ کیا تجھ کو تیرا
یہاں ہر شخص خود ہی لاپتہ ہے
مسلسل خوف ہے اب تو کہیں ایسا نہ ہو جائے
مِری ارض وطن میرے لیے برما نہ ہو جائے
چلے اک دور ایسا بھی سرِ مے خانۂ ہستی
جنوں بن جائے صہبا اور خرد پیمانہ ہو جائے
مِرے صبر و تحمل کو ہنسی میں ٹالنے والے
کسی دن میری خاموشی سخن آسا نہ ہو جائے