آوارگی کے نقش اُبھر کر بکھر گئے
وہ شب گزار لوگ نہ جانے کدھر گئے
تجدیدِ دوستی کے سبب یہ ہوا ضرور
کچھ زخم تازہ ہو گئے کچھ زخم بھر گئے
آئے تو ہاتھوں ہاتھ لیا،۔ اور دمِ وِداع
کاندھوں پہ سب اُٹھائے ہمیں چھوڑ کر گئے
وہ دن بھی تھے کہ مدِ مقابل نہ تھا کوئی
یہ دن بھی ہے کہ آئینہ دیکھا تو ڈر گئے
ہمدرد،۔ غمگسار،۔ مزاج آشنا،۔ رفیق
کچھ لوگ آس پاس تھے جانے کدھر گئے
سر بستہ راز ہی رہی ہم پر ہماری ذات
ہم بے خبر ہی آئے تھے اور بے خبر گئے
گمنام کر نہ پائے تو بدنام کر دیا
احباب میرے حق میں بڑا کام کر گئے
خالد جو کہہ رہے تھے کہ ہے عمر بھر کا ساتھ
افسوس میرا ساتھ وہی چھوڑ کر گئے
عبداللہ خالد
No comments:
Post a Comment