Tuesday, 7 December 2021

اس جہاں میں بھی کہیں اپنا سہارا کوئی ہے

اس جہاں میں بھی کہیں اپنا سہارا کوئی ہے

آسمانوں میں بھی لگتا ہے ہمارا کوئی ہے

یوں تو کہنے کو سبھی سے ہیں مراسم اپنے

مان لیں کیسے کہ ان سب میں ہمارا کوئی ہے

شوق سے جان پہ سہہ لیں جو ہمیں ہو معلوم

فیصلہ ہے یہ اب اس کا کہ اشارا کوئی ہے

کاٹ لیتا ہے شب و روز تو وہ بھی آخر

جس کی منزل ہے نہ رستہ نہ ستارا کوئی ہے

اے شبِ ہجر! ستاتی ہے ہمیں کیوں نا حق

ہم رہے اس کے نہ اب وہ ہی ہمارا کوئی ہے


تاشی ظہیر

No comments:

Post a Comment