اس جہاں میں بھی کہیں اپنا سہارا کوئی ہے
آسمانوں میں بھی لگتا ہے ہمارا کوئی ہے
یوں تو کہنے کو سبھی سے ہیں مراسم اپنے
مان لیں کیسے کہ ان سب میں ہمارا کوئی ہے
شوق سے جان پہ سہہ لیں جو ہمیں ہو معلوم
فیصلہ ہے یہ اب اس کا کہ اشارا کوئی ہے
کاٹ لیتا ہے شب و روز تو وہ بھی آخر
جس کی منزل ہے نہ رستہ نہ ستارا کوئی ہے
اے شبِ ہجر! ستاتی ہے ہمیں کیوں نا حق
ہم رہے اس کے نہ اب وہ ہی ہمارا کوئی ہے
تاشی ظہیر
No comments:
Post a Comment