Showing posts with label شفیق دہلوی. Show all posts
Showing posts with label شفیق دہلوی. Show all posts

Saturday, 16 March 2024

شب فراق کا مارا ہوں دل گرفتہ ہوں

 شب فراق کا مارا ہوں، دل گرفتہ ہوں

چراغ تیرہ شبی ہوں میں جلتا رہتا ہوں

کبھی کا مار دیا ہوتا زندگی نے مجھے

یہ شکر ہے کہ میں زندہ دلی سے زندہ ہوں

کوئی فریب تمنا، نہ جلوہ اور نہ خیال

دیار عشق میں تنہا تھا، اور تنہا ہوں

Thursday, 23 November 2023

دیوانگئ شوق کا ساماں سجا کے لا

 دیوانگئ شوق کا ساماں سجا کے لا

ناداں گُہر کوئی سرِ مژگاں سجا کے لا

فنکار تُو اگر ہے تو فن کا دکھا کمال

تصویرِ یار تا حدِ اِمکاں سجا کے لا

گُلشن پہ ہے خزاں کا تسلط تو غم نہیں

دل میں فریبِ حُسنِ بہاراں سجا کے لا

Sunday, 19 November 2023

دل ٹوٹ چکا تار نظر ٹوٹ رہا ہے

 دل ٹوٹ چکا، تارِ نظر ٹُوٹ رہا ہے

قسطوں میں مسافر کا سفر ٹوٹ رہا ہے

ہر روز بدلتا ہے نیا رنگ زمانہ

ہر شخص بہ اندازِ دِگر ٹوٹ رہا ہے

تُو غور سے دیکھے تو یہ معلوم ہو تجھ کو

جو کچھ ہے تِرے پیش نظر ٹوٹ رہا ہے

Saturday, 10 July 2021

جیسے صبح کو سورج نکلے شام ڈھلے چھپ جائے ہے

جیسے صبح کو سورج نکلے شام ڈھلے چھپ جائے ہے

تم بھی مسافر میں بھی مسافر، دنیا ایک سرائے ہے

راز خودی ہے یہ فرزانو!، بہتر ہے یہ راز نہ جانو

جو خود کو پہچانے ہے،۔ وہ دیوانہ کہلائے ہے

فہم و خرد سے جوشِ جنوں تک ہر منزل سے گزرے ہیں

ہم تو دیوانے ہیں بھائی! ہم کو کیا سمجھائے ہے؟

Friday, 2 April 2021

زندگی تجھ سے ہمیں اب کوئی شکوہ ہی نہیں

زندگی تجھ سے ہمیں اب کوئی شکوہ ہی نہیں

اب تو وہ حال ہے جینے کی تمنا ہی نہیں

اشک آنکھوں میں ہوئے خُشک تو خوں رو دیتا

رونے والے تجھے رونے کا سلیقہ ہی نہیں

انتہا عشق کی ہے آئینۂ دل پہ مِرے

ماسوا اس کے کوئی عکس اُبھرتا ہی نہیں