شب فراق کا مارا ہوں، دل گرفتہ ہوں
چراغ تیرہ شبی ہوں میں جلتا رہتا ہوں
کبھی کا مار دیا ہوتا زندگی نے مجھے
یہ شکر ہے کہ میں زندہ دلی سے زندہ ہوں
کوئی فریب تمنا، نہ جلوہ اور نہ خیال
دیار عشق میں تنہا تھا، اور تنہا ہوں
شب فراق کا مارا ہوں، دل گرفتہ ہوں
چراغ تیرہ شبی ہوں میں جلتا رہتا ہوں
کبھی کا مار دیا ہوتا زندگی نے مجھے
یہ شکر ہے کہ میں زندہ دلی سے زندہ ہوں
کوئی فریب تمنا، نہ جلوہ اور نہ خیال
دیار عشق میں تنہا تھا، اور تنہا ہوں
دیوانگئ شوق کا ساماں سجا کے لا
ناداں گُہر کوئی سرِ مژگاں سجا کے لا
فنکار تُو اگر ہے تو فن کا دکھا کمال
تصویرِ یار تا حدِ اِمکاں سجا کے لا
گُلشن پہ ہے خزاں کا تسلط تو غم نہیں
دل میں فریبِ حُسنِ بہاراں سجا کے لا
دل ٹوٹ چکا، تارِ نظر ٹُوٹ رہا ہے
قسطوں میں مسافر کا سفر ٹوٹ رہا ہے
ہر روز بدلتا ہے نیا رنگ زمانہ
ہر شخص بہ اندازِ دِگر ٹوٹ رہا ہے
تُو غور سے دیکھے تو یہ معلوم ہو تجھ کو
جو کچھ ہے تِرے پیش نظر ٹوٹ رہا ہے
جیسے صبح کو سورج نکلے شام ڈھلے چھپ جائے ہے
تم بھی مسافر میں بھی مسافر، دنیا ایک سرائے ہے
راز خودی ہے یہ فرزانو!، بہتر ہے یہ راز نہ جانو
جو خود کو پہچانے ہے،۔ وہ دیوانہ کہلائے ہے
فہم و خرد سے جوشِ جنوں تک ہر منزل سے گزرے ہیں
ہم تو دیوانے ہیں بھائی! ہم کو کیا سمجھائے ہے؟
زندگی تجھ سے ہمیں اب کوئی شکوہ ہی نہیں
اب تو وہ حال ہے جینے کی تمنا ہی نہیں
اشک آنکھوں میں ہوئے خُشک تو خوں رو دیتا
رونے والے تجھے رونے کا سلیقہ ہی نہیں
انتہا عشق کی ہے آئینۂ دل پہ مِرے
ماسوا اس کے کوئی عکس اُبھرتا ہی نہیں