Friday, 2 April 2021

زندگی تجھ سے ہمیں اب کوئی شکوہ ہی نہیں

زندگی تجھ سے ہمیں اب کوئی شکوہ ہی نہیں

اب تو وہ حال ہے جینے کی تمنا ہی نہیں

اشک آنکھوں میں ہوئے خُشک تو خوں رو دیتا

رونے والے تجھے رونے کا سلیقہ ہی نہیں

انتہا عشق کی ہے آئینۂ دل پہ مِرے

ماسوا اس کے کوئی عکس اُبھرتا ہی نہیں

میرے افکار کو دیتی ہے جِلا اس کی جفا

غم نہ ہوتے تو یہ قرطاس سنورتا ہی نہیں

مجھ کو حق بات کے کہنے میں تأمل کیوں ہو

میں وہ دیوانہ ہوں جو دار سے ڈرتا ہی نہیں

ہم کہ خوابوں سے بہل جاتے تھے لیکن افسوس

جاگتی آنکھوں سے تو خواب کا رشتہ ہی نہیں

میں کہ سُورج ہو اِدھر ڈُوبا اُدھر اُبھروں گا

میں وہ تیراک نہیں ہوں جو اُبھرتا ہی نہیں

وقت کے ساتھ بدلنے لگا ہر اک شفیق

جیسے اب مجھ سے کسی کا کوئی رشتہ ہی نہیں


شفیق دہلوی

No comments:

Post a Comment