Showing posts with label افضال فردوس. Show all posts
Showing posts with label افضال فردوس. Show all posts

Thursday, 31 March 2022

دیپ جلایا پانی میں پھول کھلایا پانی میں

 دیپ جلایا پانی میں

پھول کھلایا پانی میں

سورج اور پرندوں کا

منظر آیا پانی میں

ننھی منی چڑیوں نے

شور مچایا پانی میں

Wednesday, 30 March 2022

میں خاک میں ملے ہوئے گلاب دیکھتا رہا

 میں خاک میں ملے ہوئے گلاب دیکھتا رہا

اور آنے والے موسموں کے خواب دیکھتا رہا

کسی نے مجھ سے کہہ دیا تھا زندگی پہ غور کر

میں شاخ پر کھلا ہوا گلاب دیکھتا رہا

کھڑا تھا میں سمندروں کو اوک میں لیے ہوئے

مگر یہ شخص عجیب تھا سراب دیکھتا رہا

Tuesday, 29 March 2022

ڈوب گیا ہے ایک ستارہ آنکھوں میں

 ڈوب گیا ہے ایک ستارا آنکھوں میں

ٹھہر گیا ہے نقش تمہارا آنکھوں میں

پتھرائی ہیں آنکھیں غم کی شدت سے

رکا ہوا ہے موسم سارا آنکھوں میں

وہ لوگوں کے ساتھ ہنسی میں شامل تھی

پھیل گیا لیکن مسکارا آنکھوں میں

Monday, 28 March 2022

اس طرح ستایا ہے پریشان کیا ہے

 اس طرح ستایا ہے، پریشان کیا ہے

گویا کہ محبت نہیں، احسان کیا ہے

تجھ کو ہی نہیں مجھ کو بھی حیران کیا ہے

اس دل نے بڑا ہم کو پریشان کیا ہے

سوچا تھا کہ تم دوسروں جیسے نہیں ہو گے

تم نے بھی وہی کام مِری جان! کیا ہے

Sunday, 27 March 2022

کر بھی لوں اگر خواب کی تعبیر کوئی اور

 کر بھی لوں اگر خواب کی تعبیر کوئی اور

سینے میں اتر جائے گی شمشیر کوئی اور

اب اشک تِرے روک نہیں پائیں گے مجھ کو

اب ڈال مِرے پاؤں میں زنجیر کوئی اور

میں شب سے نہیں دن کی ہلاکت سے ڈرا ہوں

اب میرے لیے بھیجنا تنویر کوئی اور