دیپ جلایا پانی میں
پھول کھلایا پانی میں
سورج اور پرندوں کا
منظر آیا پانی میں
ننھی منی چڑیوں نے
شور مچایا پانی میں
دیپ جلایا پانی میں
پھول کھلایا پانی میں
سورج اور پرندوں کا
منظر آیا پانی میں
ننھی منی چڑیوں نے
شور مچایا پانی میں
میں خاک میں ملے ہوئے گلاب دیکھتا رہا
اور آنے والے موسموں کے خواب دیکھتا رہا
کسی نے مجھ سے کہہ دیا تھا زندگی پہ غور کر
میں شاخ پر کھلا ہوا گلاب دیکھتا رہا
کھڑا تھا میں سمندروں کو اوک میں لیے ہوئے
مگر یہ شخص عجیب تھا سراب دیکھتا رہا
ڈوب گیا ہے ایک ستارا آنکھوں میں
ٹھہر گیا ہے نقش تمہارا آنکھوں میں
پتھرائی ہیں آنکھیں غم کی شدت سے
رکا ہوا ہے موسم سارا آنکھوں میں
وہ لوگوں کے ساتھ ہنسی میں شامل تھی
پھیل گیا لیکن مسکارا آنکھوں میں
اس طرح ستایا ہے، پریشان کیا ہے
گویا کہ محبت نہیں، احسان کیا ہے
تجھ کو ہی نہیں مجھ کو بھی حیران کیا ہے
اس دل نے بڑا ہم کو پریشان کیا ہے
سوچا تھا کہ تم دوسروں جیسے نہیں ہو گے
تم نے بھی وہی کام مِری جان! کیا ہے
کر بھی لوں اگر خواب کی تعبیر کوئی اور
سینے میں اتر جائے گی شمشیر کوئی اور
اب اشک تِرے روک نہیں پائیں گے مجھ کو
اب ڈال مِرے پاؤں میں زنجیر کوئی اور
میں شب سے نہیں دن کی ہلاکت سے ڈرا ہوں
اب میرے لیے بھیجنا تنویر کوئی اور