سنگ دل ہے بے وفا ہے بے مروت ہے تو ہے
لوگ کہتے ہیں مجھے اس سے محبت ہے تو ہے
دل چرانے کی ادا ان کی بہت ہے دل نشیں
چور کی داڑھی میں تنکا، یہ کہاوت ہے تو ہے
میرے دل میں اس کی الفت دوستو بے لوث ہے
اس کی نظروں میں اگر یہ بھی تجارت ہے تو ہے
سنگ دل ہے بے وفا ہے بے مروت ہے تو ہے
لوگ کہتے ہیں مجھے اس سے محبت ہے تو ہے
دل چرانے کی ادا ان کی بہت ہے دل نشیں
چور کی داڑھی میں تنکا، یہ کہاوت ہے تو ہے
میرے دل میں اس کی الفت دوستو بے لوث ہے
اس کی نظروں میں اگر یہ بھی تجارت ہے تو ہے
دل شکن درد کی تفسیر کہاں سے آئی
میری قسمت کی یہ تحریر کہاں سے آئی
میں نے پلکوں پہ سجایا تھا حسیں خواب مگر
اس کی یہ دکھ بھری تعبیر کہاں سے آئی
ہم تو دیتے رہے دنیا کو محبت کا پیام
درمیاں اپنے یہ شمشیر کہاں سے آئی
میں زندہ رہنے کا پھر اہتمام کیا کرتا
ہے دو دن کا سفر تو قیام کیا کرتا
مِرے مزاج سے اس کا مزاج ملتا نہیں
پھر اس کے نام کے ہمراہ نام کیا کرتا
تمام دن تو بڑی بے کلی میں بیت گیا
پھر ان کی زلف کے سائے میں شام کیا کرتا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بزم میں جب مِرے سرکارؐ نظر آتے ہیں
ہر طرف عرش کے انوار نظر آتے ہیں
جب تصور میں ابھرتا ہے مدینے کا جمال
آپؐ کے روضے کے مینار نظر آتے ہیں
میں نے دیکھا ہے عجب حال یہ دیوانوں کا
عشق میں آپﷺ کے سرشار نظر آتے ہیں
چہرے پہ عیاں کرب کا منظر نہیں دیکھا
لوگوں نے مِرے دل میں اُتر کر نہیں دیکھا
موجوں کے تھپیڑوں کی اسے کیسے خبر ہو
صحرا کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا
پستی میں جو لے آئی مجھے گردشِ دوراں
اونچائی پہ پھر اپنا مقدر نہیں دیکھا