Showing posts with label صلاح الدین تسکین. Show all posts
Showing posts with label صلاح الدین تسکین. Show all posts

Monday, 12 January 2026

سنگدل ہے بے وفا ہے بے مروت ہے تو ہے

 سنگ دل ہے بے وفا ہے بے مروت ہے تو ہے

لوگ کہتے ہیں مجھے اس سے محبت ہے تو ہے

دل چرانے کی ادا ان کی بہت ہے دل نشیں

چور کی داڑھی میں تنکا، یہ کہاوت ہے تو ہے

میرے دل میں اس کی الفت دوستو بے لوث ہے

اس کی نظروں میں اگر یہ بھی تجارت ہے تو ہے

Friday, 26 December 2025

دل شکن درد کی تفسیر کہاں سے آئی

 دل شکن درد کی تفسیر کہاں سے آئی

میری قسمت کی یہ تحریر کہاں سے آئی

میں نے پلکوں پہ سجایا تھا حسیں خواب مگر

اس کی یہ دکھ بھری تعبیر کہاں سے آئی

ہم تو دیتے رہے دنیا کو محبت کا پیام

درمیاں اپنے یہ شمشیر کہاں سے آئی

Tuesday, 14 January 2025

میں زندہ رہنے کا پھر اہتمام کیا کرتا

 میں زندہ رہنے کا پھر اہتمام کیا کرتا

ہے دو دن کا سفر تو قیام کیا کرتا

مِرے مزاج سے اس کا مزاج ملتا نہیں

پھر اس کے نام کے ہمراہ نام کیا کرتا

تمام دن تو بڑی بے کلی میں بیت گیا

پھر ان کی زلف کے سائے میں شام کیا کرتا

Sunday, 12 January 2025

بزم میں جب مرے سرکار نظر آتے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بزم میں جب مِرے سرکارؐ نظر آتے ہیں

ہر طرف عرش کے انوار نظر آتے ہیں

جب تصور میں ابھرتا ہے مدینے کا جمال

آپؐ کے روضے کے مینار نظر آتے ہیں

میں نے دیکھا ہے عجب حال یہ دیوانوں کا

عشق میں آپﷺ کے سرشار نظر آتے ہیں

Thursday, 1 July 2021

چہرے پہ عیاں کرب کا منظر نہیں دیکھا

چہرے پہ عیاں کرب کا منظر نہیں دیکھا

لوگوں نے مِرے دل میں اُتر کر نہیں دیکھا

موجوں کے تھپیڑوں کی اسے کیسے خبر ہو

صحرا کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا

پستی میں جو لے آئی مجھے گردشِ دوراں

اونچائی پہ پھر اپنا مقدر نہیں دیکھا