Showing posts with label احمد عادل. Show all posts
Showing posts with label احمد عادل. Show all posts

Friday, 18 March 2022

یہ میکشی کا سبق ہے نئے نصاب کے ساتھ

 یہ مے کشی کا سبق ہے نئے نصاب کے ساتھ

کہ خون دل ہمیں پینا ہے اب شراب کے ساتھ

بس اس یقین پہ ہوتی ہیں لغزشیں اکثر

کہ رحمتوں کا بھی داتا ہے تو عذاب کے ساتھ

یہ قربتوں کا اشارہ ہے یا جدائی کا

جو زرد پھول ملا ہے تِرے جواب کے ساتھ

Monday, 7 February 2022

ساز ہستی پہ ابھی جھوم کے گا لے مجھ کو

 ساز ہستی پہ ابھی جھوم کے گا لے مجھ کو

زندگی سے یہ کہو اور نہ ٹالے مجھ کو

میں نے تو صبح درخشاں کی دعا مانگی تھی

کیوں ملے زرد چراغوں کے اجالے مجھ کو

تجھ کو پانے کے لیے عمر گنوا دی میں نے

حق تو بنتا ہے کہ تو اپنا بنا لے مجھ کو

Monday, 22 November 2021

ہم اپنے زخم سبھی کو دکھا نہیں سکتے

 ہم اپنے زخم سبھی کو دکھا نہیں سکتے

جو شکوہ تم سے ہے سب کو سنا نہیں سکتے

مِرے خیال کی گہرائی کو ذرا سمجھو

کہ صرف لفظ تو مطلب بتا نہیں سکتے

ملال یہ ہے کہ ساقی تو بن گئے صاحب

شراب ہاتھ میں ہے اور پلا نہیں سکتے

Monday, 15 November 2021

کیا فسانے میں مرا نام کہیں ہوتا ہے

 کیا فسانے میں مِرا نام کہیں ہوتا ہے

تیرے ہونٹوں پہ نہیں ہے تو نہیں ہوتا ہے

تُو جسے ڈھونڈتا پھرتا ہے زمانے بھر میں

اپنے دل میں تو ذرا جھانک، وہیں ہوتا ہے

کتنے سادہ ہیں یہ کشتی کے مسافر جن کو

ناخداؤں کی خدائی پہ یقیں ہوتا ہے

Saturday, 13 November 2021

نشاں منزل کا بتلایا نہ مجھ کو ہمسفر جانا

 نشاں منزل کا بتلایا نہ مجھ کو ہم سفر جانا

تذبذب میں پڑا ہے وہ جسے میں نے خضر جانا

نظر میری بصیرت کو سدا محدود رکھتی ہے

پسِ منظر نہیں دیکھا فقط پیشِ نظر جانا

جہاں تقدیر لے جائے وہاں رستے نہیں جاتے

کیا تھا رخ ادھر کا کیوں لکھا تھا جب ادھر جانا

Thursday, 11 November 2021

ان کے قصے اگر بیاں ہوتے

ان کے قصے اگر بیاں ہوتے

راز سارے تبھی عیاں ہوتے

تم کو آتے ہنر جو رہزن کے

بس تمہی میرِ کارواں ہوتے

بیر ہم سے سہی مگر سوچو

ہم نہ ہوتے تو تم کہاں ہوتے

Wednesday, 10 November 2021

ہم سے تو راہ و رسم ہے اغیار کی طرح

 ہم سے تو راہ و رسم ہے اغیار کی طرح

دنیا پہ مہربان ہیں غمخوار کی طرح

کم مائیگی نہ پوچھ مِری بزمِ غیر میں

"اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح"

میں تاجرانِ عشق کے بارے میں کیا کہوں

ان کا جنوں ہے گرمئ بازار کی طرح

Thursday, 1 July 2021

دستور تھا جو غم کا پرانا بدل گیا

 دستور تھا جو غم کا پرانا بدل گیا

سنبھلے نہ تھے ابھی کہ زمانہ بدل گیا

شکوہ نہیں کہ ساغر و مینا بدل گئے

ٹوٹا خمار کیف شبانہ بدل گیا

جو باب تھے اہم ابھی ہونے تھے وہ رقم

پر کیا کہ لکھتے لکھتے فسانہ بدل گیا