یہ مے کشی کا سبق ہے نئے نصاب کے ساتھ
کہ خون دل ہمیں پینا ہے اب شراب کے ساتھ
بس اس یقین پہ ہوتی ہیں لغزشیں اکثر
کہ رحمتوں کا بھی داتا ہے تو عذاب کے ساتھ
یہ قربتوں کا اشارہ ہے یا جدائی کا
جو زرد پھول ملا ہے تِرے جواب کے ساتھ
یہ مے کشی کا سبق ہے نئے نصاب کے ساتھ
کہ خون دل ہمیں پینا ہے اب شراب کے ساتھ
بس اس یقین پہ ہوتی ہیں لغزشیں اکثر
کہ رحمتوں کا بھی داتا ہے تو عذاب کے ساتھ
یہ قربتوں کا اشارہ ہے یا جدائی کا
جو زرد پھول ملا ہے تِرے جواب کے ساتھ
ساز ہستی پہ ابھی جھوم کے گا لے مجھ کو
زندگی سے یہ کہو اور نہ ٹالے مجھ کو
میں نے تو صبح درخشاں کی دعا مانگی تھی
کیوں ملے زرد چراغوں کے اجالے مجھ کو
تجھ کو پانے کے لیے عمر گنوا دی میں نے
حق تو بنتا ہے کہ تو اپنا بنا لے مجھ کو
ہم اپنے زخم سبھی کو دکھا نہیں سکتے
جو شکوہ تم سے ہے سب کو سنا نہیں سکتے
مِرے خیال کی گہرائی کو ذرا سمجھو
کہ صرف لفظ تو مطلب بتا نہیں سکتے
ملال یہ ہے کہ ساقی تو بن گئے صاحب
شراب ہاتھ میں ہے اور پلا نہیں سکتے
کیا فسانے میں مِرا نام کہیں ہوتا ہے
تیرے ہونٹوں پہ نہیں ہے تو نہیں ہوتا ہے
تُو جسے ڈھونڈتا پھرتا ہے زمانے بھر میں
اپنے دل میں تو ذرا جھانک، وہیں ہوتا ہے
کتنے سادہ ہیں یہ کشتی کے مسافر جن کو
ناخداؤں کی خدائی پہ یقیں ہوتا ہے
نشاں منزل کا بتلایا نہ مجھ کو ہم سفر جانا
تذبذب میں پڑا ہے وہ جسے میں نے خضر جانا
نظر میری بصیرت کو سدا محدود رکھتی ہے
پسِ منظر نہیں دیکھا فقط پیشِ نظر جانا
جہاں تقدیر لے جائے وہاں رستے نہیں جاتے
کیا تھا رخ ادھر کا کیوں لکھا تھا جب ادھر جانا
ان کے قصے اگر بیاں ہوتے
راز سارے تبھی عیاں ہوتے
تم کو آتے ہنر جو رہزن کے
بس تمہی میرِ کارواں ہوتے
بیر ہم سے سہی مگر سوچو
ہم نہ ہوتے تو تم کہاں ہوتے
ہم سے تو راہ و رسم ہے اغیار کی طرح
دنیا پہ مہربان ہیں غمخوار کی طرح
کم مائیگی نہ پوچھ مِری بزمِ غیر میں
"اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح"
میں تاجرانِ عشق کے بارے میں کیا کہوں
ان کا جنوں ہے گرمئ بازار کی طرح
دستور تھا جو غم کا پرانا بدل گیا
سنبھلے نہ تھے ابھی کہ زمانہ بدل گیا
شکوہ نہیں کہ ساغر و مینا بدل گئے
ٹوٹا خمار کیف شبانہ بدل گیا
جو باب تھے اہم ابھی ہونے تھے وہ رقم
پر کیا کہ لکھتے لکھتے فسانہ بدل گیا