Monday, 7 February 2022

ساز ہستی پہ ابھی جھوم کے گا لے مجھ کو

 ساز ہستی پہ ابھی جھوم کے گا لے مجھ کو

زندگی سے یہ کہو اور نہ ٹالے مجھ کو

میں نے تو صبح درخشاں کی دعا مانگی تھی

کیوں ملے زرد چراغوں کے اجالے مجھ کو

تجھ کو پانے کے لیے عمر گنوا دی میں نے

حق تو بنتا ہے کہ تو اپنا بنا لے مجھ کو

یہ تو ساقی کی جگہ اور کوئی بیٹھا ہے

یہ جو گن گن کے پلاتا ہے پیالے مجھ کو

میں زمانے کے جھمیلوں میں دھنسا جاتا ہوں

اس سے کہیے کہ وہ دلدل سے نکالے مجھ کو

اپنی خاموش تمنا کی اذیت سے نکل

جو سنانا ہے ذرا کھل کے سنا لے مجھ کو

ناتوانی ہی مِری تاب و تواں ہے عادل

میں نے کب تجھ سے کہا تھا کہ بچا لے مجھ کو


احمد عادل

No comments:

Post a Comment