Monday, 7 February 2022

جب تک ہیں مرے قلب کے آزار سلامت

 جب تک ہیں مِرے قلب کے آزار سلامت

تب تک ہیں مگر شوق کے آثار سلامت

اس دور میں دیکھی ہے عجب ہم نے خدائی

زاہد ہی سلامت ہے؛ نہ مۓ خوار سلامت

حیراں ہیں عنادل کہ کہاں جائیں؛ کہ اب تو

نہ دشت سلامت ہے،۔ نہ گلزار سلامت

وہ قوم سلامت نہیں رہتی ہے بہت دیر

جس قوم کے رہ جائیں نہ افکار سلامت

وہ فلسفی ٹھہرے کہ نہ سمجھیں گے مِری بات

میں حق پہ رہا؛ میری بھی تکرار سلامت

چرچے ہیں جنوں کے مِری شوریدہ سری سے

صدقے میں مِرے قتل کے ہے دار سلامت

باقی ہے ہمی سے روش شور و بغاوت

ہم نے ہی رکھی رونقِ دربار سلامت


یحییٰ خان یوسفزئی

No comments:

Post a Comment