خواب اور انتظار
وہ سندر سی ایک لڑکی
روز یہی پوچھتی رہتی تھی
آپ کیسے ہیں
ناشتہ کر لیا
کھانا کھا لیا
اداس تو نہیں رہتے ہیں
اپنا خیال رکھا کریں
ہمیں بہت اچھا لگتا تھا
اُس کا اِس طرح پوچھنا
یہ جانتے ہوئے بھی کہ
دلوں کا ملاپ
ایک خواب ہوتا ہے
اور خواب اکثر خواب ہی رہتا ہے
اور یہی کچھ ہوا، اُس لڑکی نے
نہ قبول کیا، نہ ایجاب کیا
اور عزت کے نام پر
وارثوں نے تین دفعہ
"ہاں کہلوا دی"
ہم تو تنہا تھے، تنہا ہیں
بس فرق اتنا ہے
اب کوئی پوچھنے والا نہیں رہا
احسان سہگل
No comments:
Post a Comment