کمالِ ضبطِ سخن، اعتبارِ گریہ ہے
نہیں ہوں کشتۂ مے یہ خمارِ گریہ ہے
طلسمِ کشفِ کراماتِ عشقِ آشفتہ
شکستِ شوق ہے اور برمزارِ گریہ ہے
ہے سوزِعشق، حریفِ تمازتِ آتش
خطائے چشمِ طلب، خواستگارِ گریہ ہے
کمالِ ضبطِ سخن، اعتبارِ گریہ ہے
نہیں ہوں کشتۂ مے یہ خمارِ گریہ ہے
طلسمِ کشفِ کراماتِ عشقِ آشفتہ
شکستِ شوق ہے اور برمزارِ گریہ ہے
ہے سوزِعشق، حریفِ تمازتِ آتش
خطائے چشمِ طلب، خواستگارِ گریہ ہے
سورج سے رس بھنور سے تو ساحل کشید کر
صحرا کے ذرے ذرے سے محمل کشید کر
ان رائیگانیوں سے کنارہ نہ کر قبول
لا حاصلی کے کرب سے حاصل کشید کر
بھر تو ستارہ وار اُڑانیں فلک کے پار
اور لا مکاں سے پھر کوئی منزل کشید کر
ایک ملبوسِ دریدہ ہے مِری وحشتِ ہجر
ہوئی جاتی ہے حجابوں میں عیاں قامتِ ہجر
اک تحیر سا تحیر ہے طلسم گاہِ طلب
ہے فسوں خیز کہیں اس سے سوا عشرتِ ہجر
دامنِ درد میں سمٹا جو سکوتِ گریہ
چشمِ بے آب میں پوشیدہ رہی عصمتِ ہجر
عذاب راتوں، خزاں رُتوں کی کہانی لکھوں
میں تیری فُرقت کی ساعتوں کو زبانی لکھوں
بس ایک پاکیزہ ربط ہے روح و جاں کا تجھ سے
تو پھر میں اس سارے واقعے کو گمانی لکھوں
مجھے میسر ہیں سارے رشتے، وہی نہیں ہے
بھلا میں کس دل سے شوق کی رائیگانی لکھوں
ساعت زیر و زبر کے درمیاں کوئی تو ہے
سن پس ادراک پیش آسماں کوئی تو ہے
میں خود اپنے باب میں رہتی ہوں محو جستجو
ہمرکاب وحشت ریگ رواں کوئی تو ہے
اجنبی ہیں ساری آوازیں سرائے دہر میں
پھر بھی یوں لگتا ہے میرا ہم زباں کوئی تو ہے
حریمِ شوق کے یہ بام و در بلا کے ہیں
فریبِ دامِ فسونِ نظر بلا کے ہیں
لباسِ خاک مرا خاکداں کی ہے میراث
فلک سے روح کے رشتے مگر بلا کے ہیں
اسیر کرتی ہے یہ کس قدر سہولت سے
نگاہِ شوق کے سارے ہنر بلا کے ہیں