Showing posts with label انجم عثمان. Show all posts
Showing posts with label انجم عثمان. Show all posts

Sunday, 6 November 2022

کمال ضبط سخن اعتبار گریہ ہے

 کمالِ ضبطِ سخن، اعتبارِ گریہ ہے

نہیں ہوں کشتۂ مے یہ خمارِ گریہ ہے

طلسمِ کشفِ کراماتِ عشقِ آشفتہ

شکستِ شوق ہے اور برمزارِ گریہ ہے

ہے سوزِعشق، حریفِ تمازتِ آتش

خطائے چشمِ طلب، خواستگارِ گریہ ہے

Friday, 4 November 2022

سورج سے رس بھنور سے تو ساحل کشید کر

 سورج سے رس بھنور سے تو ساحل کشید کر

صحرا کے ذرے ذرے سے محمل کشید کر

ان رائیگانیوں سے کنارہ نہ کر قبول

لا حاصلی کے کرب سے حاصل کشید کر

بھر تو ستارہ وار اُڑانیں فلک کے پار

اور لا مکاں سے پھر کوئی منزل کشید کر

Monday, 31 October 2022

ایک ملبوس دریدہ ہے مری وحشت ہجر

 ایک ملبوسِ دریدہ ہے مِری وحشتِ ہجر

ہوئی جاتی ہے حجابوں میں عیاں قامتِ ہجر

اک تحیر سا تحیر ہے طلسم گاہِ طلب

ہے فسوں خیز کہیں اس سے سوا عشرتِ ہجر

دامنِ درد میں سمٹا جو سکوتِ گریہ

چشمِ بے آب میں پوشیدہ رہی عصمتِ ہجر

Sunday, 30 October 2022

عذاب راتوں خزاں رتوں کی کہانی لکھوں

 عذاب راتوں، خزاں رُتوں کی کہانی لکھوں 

میں تیری فُرقت کی ساعتوں کو زبانی لکھوں 

بس ایک پاکیزہ ربط ہے روح و جاں کا تجھ سے 

تو پھر میں اس سارے واقعے کو گمانی لکھوں 

مجھے میسر ہیں سارے رشتے، وہی نہیں ہے

بھلا میں کس دل سے شوق کی رائیگانی لکھوں

Sunday, 10 July 2022

ساعت زیر و زبر کے درمیاں کوئی تو ہے

ساعت زیر و زبر کے درمیاں کوئی تو ہے

سن پس ادراک پیش آسماں کوئی تو ہے

میں خود اپنے باب میں رہتی ہوں محو جستجو

ہمرکاب وحشت ریگ رواں کوئی تو ہے

اجنبی ہیں ساری آوازیں سرائے دہر میں

پھر بھی یوں لگتا ہے میرا ہم زباں کوئی تو ہے

Thursday, 23 June 2022

حریم شوق کے یہ بام و در بلا کے ہیں

حریمِ شوق کے یہ بام و در بلا کے ہیں

فریبِ دامِ فسونِ نظر بلا کے ہیں

لباسِ خاک مرا خاکداں کی ہے میراث

فلک سے روح کے رشتے مگر بلا کے ہیں

اسیر کرتی ہے یہ کس قدر سہولت سے

نگاہِ شوق کے سارے ہنر بلا کے ہیں