ہے یہاں تو زندگانی کی فضا روٹھی ہوئی
پیار بھی روٹھا ہوا ہے اور وفا روٹھی ہوئی
بے حیائی کے قصیدے پڑھ رہی ہیں تتلیاں
بر سرِ گلشن ہے آنکھوں کی حیا روٹھی ہوئی
بد سلوکی کر رہے ہیں بچے اب ماں باپ سے
ہے دعا سے یوں بھی تاثیرِ وفا روٹھی ہوئی
ہے یہاں تو زندگانی کی فضا روٹھی ہوئی
پیار بھی روٹھا ہوا ہے اور وفا روٹھی ہوئی
بے حیائی کے قصیدے پڑھ رہی ہیں تتلیاں
بر سرِ گلشن ہے آنکھوں کی حیا روٹھی ہوئی
بد سلوکی کر رہے ہیں بچے اب ماں باپ سے
ہے دعا سے یوں بھی تاثیرِ وفا روٹھی ہوئی
رکھنا نہ تھا پسند مگر رکھ دیا گیا
خودغرضیوں کے پاؤں پہ سر رکھ دیا گیا
کشتی کو اپنی لے کے چلا تھا میں جس طرف
دریا میں اس طرف ہی بھنور رکھ دیا گیا
جس نے زبان کھولی ستمگر کے سامنے
اس کا بدن سے کاٹ کے سر رکھ دیا گیا
ہلکی سی بھی کانوں میں صدا تک نہیں آتی
گلزار میں اب باد صبا تک نہیں آتی
سب بھول گئی جیسے سبق شرم و حیا کے
اب سر پہ نظر اس کے ردا تک نہیں آتی
میں اس کو مناؤں بھی تو کس طرح مناؤں
بتلانے مجھے میری خطا تک نہیں آتی
منزل سے پہلے ہی چلنا چھوڑ دیا
مجھ کو اس نے راہ میں تنہا چھوڑ دیا
پھینک دی اس نے ہاتھ سے جب تلوار تو پھر
میں نے بھی دُشمن کو زندہ چھوڑ دیا
دور ترقی! تیرے صدقے چھوٹوں نے
اپنے بڑوں کی عزت کرنا چھوڑ دیا