Showing posts with label اشتیاق عالم. Show all posts
Showing posts with label اشتیاق عالم. Show all posts

Monday, 13 July 2026

ہے یہاں تو زندگانی کی فضا روٹھی ہوئی

 ہے یہاں تو زندگانی کی فضا روٹھی ہوئی

پیار بھی روٹھا ہوا ہے اور وفا روٹھی ہوئی

بے حیائی کے قصیدے پڑھ رہی ہیں تتلیاں

بر سرِ گلشن ہے آنکھوں کی حیا روٹھی ہوئی

بد سلوکی کر رہے ہیں بچے اب ماں باپ سے

ہے دعا سے یوں بھی تاثیرِ وفا روٹھی ہوئی

Thursday, 14 May 2026

رکھنا نہ تھا پسند مگر رکھ دیا گیا

 رکھنا نہ تھا پسند مگر رکھ دیا گیا

خودغرضیوں کے پاؤں پہ سر رکھ دیا گیا

کشتی کو اپنی لے کے چلا تھا میں جس طرف

دریا میں اس طرف ہی بھنور رکھ دیا گیا

جس نے زبان کھولی ستمگر کے سامنے

اس کا بدن سے کاٹ کے سر رکھ دیا گیا

Thursday, 14 March 2024

لہجے سے ترے بوئے وفا تک نہیں آتی

ہلکی سی بھی کانوں میں صدا تک نہیں آتی

گلزار میں اب باد صبا تک نہیں آتی

سب بھول گئی جیسے سبق شرم و حیا کے

اب سر پہ نظر اس کے ردا تک نہیں آتی

میں اس کو مناؤں بھی تو کس طرح مناؤں

بتلانے مجھے میری خطا تک نہیں آتی

Saturday, 10 April 2021

منزل سے پہلے ہی چلنا چھوڑ دیا

منزل سے پہلے ہی چلنا چھوڑ دیا

مجھ کو اس نے راہ میں تنہا چھوڑ دیا

پھینک دی اس نے ہاتھ سے جب تلوار تو پھر

میں نے بھی دُشمن کو زندہ چھوڑ دیا

دور ترقی! تیرے صدقے چھوٹوں نے

اپنے بڑوں کی عزت کرنا چھوڑ دیا