آ دیکھ بستیوں میں یتیمانہ زندگی
کیسے سسک رہی ہے غریبانہ زندگی
بے کار ہے فضول ہے بے حد ذلیل ہے
رکھےجو اس کی یاد سے بے گانہ زندگی
تُو بھی تو اپنے حصے کا کوئی دِیا جلا
پھر دیکھ کیا ہے شمع و پروانہ ذندگی
رومی کو پڑھ رہے ہیں تو اقبال کو کبھی
ہم تو گزارتے ہیں ہیں فقیرانہ زندگی
رہتی ہے اس کی موت سے ہر لمحہ کشمکش
کس درجہ جنگجو ہے حریفانہ ذندگی
آ اور ہم سے سادہ مزاجوں سے سیکھ لے
کیسے گزارنی ہے شریفانہ زندگی
عابد! قلم سے کام لیا ہے جہاد کا
کیا ہو گی اس سے بڑھ کے دلیرانہ زندگی
عابد کمالوی
No comments:
Post a Comment