بشر کو آزماتا ہے
خدا تحریریں لکھتا ہے
جسے ہم تم مقدر کا لکھا گردانتے ہیں
خدا تحریریں پڑھتا ہے
جو ماتھے پر ہوں آویزاں
دلوں میں جو پنپتی ہوں
جو ہاتھوں کی لکیروں میں کسی کل کا پتا دیتی نظر آئیں
کسی بھی خواب کی تکمیل ہوگی کن شرائط پر
مسافت مختصر ہوگی یا اس کو طول دینا ہے
وہ حتمی فیصلہ کر کے
فقط ہر فیصلے کے ساتھ لفظِ کُن لگاتا ہے
کسی کو روک لیتا ہے کسے ہر دم بھگاتا ہے
فلک پر بیٹھ کر ماجد ہمیشہ حظ اٹھاتا ہے
بشر کو آزماتا ہے، بشر کو آزماتا ہے
ماجد جہانگیر مرزا
No comments:
Post a Comment