Saturday, 10 April 2021

بشر کو آزماتا ہے خدا تحریریں لکھتا ہے

 بشر کو آزماتا ہے


خدا تحریریں لکھتا ہے

جسے ہم تم مقدر کا لکھا گردانتے ہیں

خدا تحریریں پڑھتا ہے

جو ماتھے پر ہوں آویزاں

دلوں میں جو پنپتی ہوں

جو ہاتھوں کی لکیروں میں کسی کل کا پتا دیتی نظر آئیں

کسی بھی خواب کی تکمیل ہوگی کن شرائط پر

مسافت مختصر ہوگی یا اس کو طول دینا ہے

وہ حتمی فیصلہ کر کے

فقط ہر فیصلے کے ساتھ لفظِ کُن لگاتا ہے

کسی کو روک لیتا ہے کسے ہر دم بھگاتا ہے

فلک پر بیٹھ کر ماجد ہمیشہ حظ اٹھاتا ہے

بشر کو آزماتا ہے، بشر کو آزماتا ہے


ماجد جہانگیر مرزا

No comments:

Post a Comment