سوچا ہے کئی بار مگر اب تو یقیں ہے
ہر طرح سے دل میرا تِرے زیرِ نگیں ہے
کچھ پل کے لیے سوچا کہ میں تجھ کو بھلا دوں
آواز یہ اک آئی کہ کیا جینا نہیں ہے؟
تم اس کو محبت کہو یا دے دو کوئی نام
بے ساختہ در تیرے جھکی میری جبیں ہے
سوچا ہے کئی بار مگر اب تو یقیں ہے
ہر طرح سے دل میرا تِرے زیرِ نگیں ہے
کچھ پل کے لیے سوچا کہ میں تجھ کو بھلا دوں
آواز یہ اک آئی کہ کیا جینا نہیں ہے؟
تم اس کو محبت کہو یا دے دو کوئی نام
بے ساختہ در تیرے جھکی میری جبیں ہے
پیار نے یہ بھی دن ہے دکھلایا
مجھ سے اپنا ہی روٹھا ہے سایا
میں نے شعروں میں اس کو ڈھال لیا
زخم جو بھی جگر پہ ہے آیا
تم نے کیسے کیا ہے بٹوارہ
میرے حصے میں تو نہیں آیا
جب کبھی یاد تِری مجھ سے بچھڑ جاتی ہے
سانس تک چلتی ہوئی میری اکھڑ جاتی ہے
میں اسی واسطے باتیں نہیں کرتی تجھ سے
بات جب بڑھتی ہے پھر بات بگڑ جاتی ہے
مہرباں تیرا تصور نہ ہو جب تک مجھ پہ
جو بھی تصویر بناؤں میں بگڑ جاتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے نظر صرف ان کی رحمت پر
ان کے فیض و کرم کی وسعت پر
جاں لٹاتے ہیں خسروانِ جہاں
ان کی ناموس ان کی عظمت پر
خاکِ طیبہ کو چومنے والے
ناز کرتے ہیں اپنی قسمت پر
نہ تو درد ہے، نہ دوا رہی
نہ وفا رہی، نہ جفا رہی
کوئی دل سے کھیلے تو کس طرح
نہ وہ حسن ہے، نہ ادا رہی
نہ وہ مجنوں ہے نہ وہ لیلیٰ ہے
کہاں عشق میں وہ سزا رہی
میں نے جینا سیکھ لیا
میں نے جینا سیکھ لیا، میں نے جینا سیکھ لیا
اچھا کہو یا برا کہو، میں نے جینا سیکھ لیا
دنیا سے ہم ڈرتے تھے، چھپ چھپ آہیں بھرتے تھے
ہر اک کو پہچان لیا، کون ہے اپنا جان لیا
چوٹ جو دل پر کھائی ہے، دیتا درد دھائی ہے
اپنا جن کو کہتے تھے، ان کے دئیے غم سہتے تھے
محبت تمہاری یہ کیا کر گئی
کہ رسوائی دامن میں بھی بھر گئی
میں بدنام ہوں تیرے کوچے میں یوں
کہ خوشبو محبت کی گھر کر گئی
محبت کے معنی سے واقف ہے کون
ہوس میرے دل میں برابر گئی