Showing posts with label عروج زیب. Show all posts
Showing posts with label عروج زیب. Show all posts

Monday, 6 April 2026

سوچا ہے کئی بار مگر اب تو یقیں ہے

 سوچا ہے کئی بار مگر اب تو یقیں ہے 

ہر طرح سے دل میرا تِرے زیرِ نگیں ہے

کچھ پل کے لیے سوچا کہ میں تجھ کو بھلا دوں

آواز یہ اک آئی کہ کیا جینا نہیں ہے؟

تم اس کو محبت کہو یا دے دو کوئی نام

بے ساختہ در تیرے جھکی میری جبیں ہے

Monday, 5 May 2025

پیار نے یہ بھی دن ہے دکھلایا

 پیار نے یہ بھی دن ہے دکھلایا

مجھ سے اپنا ہی روٹھا ہے سایا

میں نے شعروں میں اس کو ڈھال لیا

زخم جو بھی جگر پہ ہے آیا

تم نے کیسے کیا ہے بٹوارہ 

میرے حصے میں تو نہیں آیا

Monday, 24 March 2025

جب کبھی یاد تری مجھ سے بچھڑ جاتی ہے

 جب کبھی یاد تِری مجھ سے بچھڑ جاتی ہے

سانس تک چلتی ہوئی میری اکھڑ جاتی ہے

میں اسی واسطے باتیں نہیں کرتی تجھ سے

بات جب بڑھتی ہے پھر بات بگڑ جاتی ہے 

مہرباں تیرا تصور نہ ہو جب تک مجھ پہ

جو بھی تصویر بناؤں میں بگڑ جاتی ہے

Sunday, 29 September 2024

ہے نظر صرف ان کی رحمت پر

  عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہے نظر صرف ان کی رحمت پر

ان کے فیض و کرم کی وسعت پر

جاں لٹاتے ہیں خسروانِ جہاں

ان کی ناموس ان کی عظمت پر

خاکِ طیبہ کو چومنے والے

ناز کرتے ہیں اپنی قسمت پر

Thursday, 30 May 2024

نہ تو درد ہے نہ دوا رہی

 نہ تو درد ہے، نہ دوا رہی

نہ وفا رہی، نہ جفا رہی

کوئی دل سے کھیلے تو کس طرح

نہ وہ حسن ہے، نہ ادا رہی

نہ وہ مجنوں ہے نہ وہ لیلیٰ ہے

کہاں عشق میں وہ سزا رہی

Friday, 24 December 2021

میں نے جینا سیکھ لیا

میں نے جینا سیکھ لیا


میں نے جینا سیکھ لیا، میں نے  جینا سیکھ لیا

اچھا کہو یا برا کہو، میں نے جینا سیکھ لیا

دنیا سے ہم ڈرتے تھے، چھپ چھپ آہیں بھرتے تھے

ہر اک کو پہچان لیا، کون ہے اپنا جان لیا

چوٹ جو دل پر کھائی ہے، دیتا درد دھائی ہے

اپنا جن کو کہتے تھے، ان کے دئیے غم سہتے تھے

Wednesday, 22 December 2021

محبت تمہاری یہ کیا کر گئی

محبت تمہاری یہ کیا کر گئی

کہ رسوائی دامن میں بھی بھر گئی

میں بدنام ہوں تیرے کوچے میں یوں

کہ خوشبو محبت کی گھر کر گئی

محبت کے معنی سے واقف ہے کون

ہوس میرے دل میں برابر گئی