Showing posts with label شمیم فاروقی. Show all posts
Showing posts with label شمیم فاروقی. Show all posts

Saturday, 31 December 2016

جو کچھ لگا وہ کوچہ گلفام میں لگا

جو کچھ لگا وہ کوچۂ گلفام میں لگا
پھر اس کے بعد نہ دل کسی کام میں لگا
جب اس ستم نواز سے منسوب کر دیا
اب اور تہمتیں نہ مِرے نام میں لگا
دل ہی کے ٹکڑے کر دیئے تُو نے تو خوش جمال
لے جا، انہیں بھی گھر کے در و بام میں لگا

شکستہ خواب کی تعبیر کر رہا ہوں میں

شکستہ خواب کی تعبیر کر رہا ہوں میں
خود اپنے جرم کی تشہیر کر رہا ہوں میں
جلا رہا ہوں ہتھیلی پہ آنسوؤں کے چراغ
دعا کو قابلِ تاثیر کر رہا ہوں میں
کوئی تو ہمتِ مردانہ دیکھنے آتا
خود اپنی ذات کو تسخیر کر رہا ہوں میں

Tuesday, 27 December 2016

تجھ کو پتا ہے پیاس کی شدت کسے ملی

تجھ کو پتا ہے پیاس کی شدت کسے ملی
اے موجِ آب! تیری حلاوت کسے ملی
ہم سے اڑا کے شوقِ سفر کون لے گیا
بے نام موسموں کی رفاقت کسے ملی 
کس کے لبوں سے نغمہ و شیریں دہن ملا
اس جسمِ بے پناہ کی قربت کسے ملی

ہمراہ چل رہا تھا مگر دیکھتا نہ تھا

ہمراہ چل رہا تھا مگر دیکھتا نہ تھا
جیسے کہ وہ کبھی کا مِرا آشیانہ تھا
سارے بدن پہ آگ کی لپٹیں سوار تھیں
دریا میں کودنے کے سوا راستہ نہ تھا
اک دوسرے سے دور رہے ہم تمام عمر
ویسے ہمارے بیچ کوئی فاصلہ نہ تھا

Monday, 26 December 2016

لوگوں کا کیا قصور کہ نادان میں ہی تھا

لوگوں کا کیا قصور کہ نادان میں ہی تھا
اپنی حماقتوں سے پریشان میں ہی تھا
مجبور تھا، وہ حوصلہ کس پر نکالتا
اس کیلئے تو شہر میں آسان میں ہی تھا
میرا ہی خوف اس کو برابر لگا رہا 
یہ جانتے ہوئے کہ نگہبان میں ہی تھا

ڈوبتے سورج کا منظر وہ سہانی کشتیاں

ڈوبتے سورج کا منظر وہ سہانی کشتیاں 
پھر بلاتی ہیں کسی کو بادبانی کشتیاں
موجِ دریا نے کہا کیا، ساحلوں سے کیا ملا
کہہ گئیں کل رات سب اپنی کہانی کشتیاں
خامشی سے ڈوبنے والے ہمیں کیا دے گئے
ایک انجانے سفر کی کچھ نشانی کشتیاں 

Friday, 27 November 2015

حقیقتوں سے جو نکلے تو خواب تک پہنچے

حقیقتوں سے جو نکلے تو خواب تک پہنچے
کہ جیسے کوئی سمندر سراب تک پہنچے
کہیں سے مِل نہ سکا مجھ کو اِذنِ گویائی
مِرے سوال ہی آخر جواب تک پہنچے
جو پارسا تھے رہے زعمِ پارسائی میں
گناہ گار ہی کارِ ثواب تک پہنچے

جو ہو سکے تو کبھی قید جسم و جاں سے نکل

جو ہو سکے تو کبھی قیدِ جسم و جاں سے نکل
یہاں سے میں بھی نکلتا ہوں تُو وہاں سے نکل
اِدھر اُدھر سے نکلنا بہت ہی مشکل ہے
بڑھے گی بھیڑ ابھی اور درمیاں سے نکل
زمیں بھی تیری ہے، مالک غلام بھی تیرے 
کبھی تو میرے خدا! اپنے آسماں سے نکل

کتاب کون سی ہے اور کس زبان میں ہے

کتاب کون سی ہے اور کس زبان میں ہے
سنا ہے ذکر ہمارا بھی داستان میں ہے
اسی نے دھوپ میں چلنے کی جیت لی بازی
وہ ایک شخص جو مدت سے سائبان میں ہے
زمین کو جو بھی اگانا ہے وہ اگائے گی
مجھے پتہ ہے میرا رزق آسمان میں ہے