عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اس طرف آپﷺ کی بس ایک نظر ہو جائے
دل مِرا، میرے شہاﷺ طیبہ نگر ہو جائے
میں محمدﷺ کی غلامی میں رہوں مدحِ کناں
آرزو ہے کہ یونہی عمر بسر ہو جائے
سبز گُنبد کا کروں میں بھی کبھی نظارا
اے خدا میری دعا میں بھی اثر ہو جائے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اس طرف آپﷺ کی بس ایک نظر ہو جائے
دل مِرا، میرے شہاﷺ طیبہ نگر ہو جائے
میں محمدﷺ کی غلامی میں رہوں مدحِ کناں
آرزو ہے کہ یونہی عمر بسر ہو جائے
سبز گُنبد کا کروں میں بھی کبھی نظارا
اے خدا میری دعا میں بھی اثر ہو جائے
تمہاری یاد کا اک دائرہ بناتی ہوں
پھر اس میں رہنے کی کوئی جگہ بناتی ہوں
وہ اپنے گرد اٹھاتا ہے روز دیواریں
میں اس کی سمت نیا راستہ بناتی ہوں
زمانہ بڑھ کے وہی پیڑ کاٹ دیتا ہے
میں جس کی شاخ پہ اک گھونسلہ بناتی ہوں
کسی کی سننی نہیں ہے اگر مگر میں نے
جواب دینا ہے ڈنکے کی چوٹ پر میں نے
ابھی سے سائے میں جا کے نگوڑا بیٹھ گیا
ابھی تو دل کو لگایا تھا کام پر میں نے
تِری نظر میں تو یہ سرسری سی کوشش ہے
مجھے پتا ہے بنایا ہے کیسے گھر میں نے
تجھے پکار رہی ہوں یہی مِری حد ہے
اب اس سے بڑھ کے بھلا اور بھی کوئی حد ہے
مجھے ملی ہے مِرے گھر سے کافی آزادی
مگر یہ شرم و حیا میری اپنی ہی حد ہے
تمہاری شرطوں پہ جیتے رہے ہیں ساری عمر
تمہاری نظروں میں کیا یہ بھی سرسری حد ہے
لگا کے نقب کسی روز مار سکتے ہیں
پرانے دوست نیا روپ دھار سکتے ہیں
ہم اپنے لفظوں میں صورت گری کے ماہر ہیں
کسی بھی ذہن میں منظر اتار سکتے ہیں
بضد نہ ہو کہ تری پیروی ضروری ہے
ہم اپنے آپ کو بہتر سدھار سکتے ہیں
عشق دریا ہے گراں بار نہ جانے کوئی
بہتے پانی کو گنہ گار نہ جانے کوئی
اس میں روحوں کی ملاقات ہوا کرتی ہے
خواب کے پیار کو بےکار نہ جانے کوئی
میں جو حالات کے دھارے میں بہی جاتی ہوں
مجھ کو لہروں کا طرفدار نہ جانے کوئی
رُتوں کے خوف سے جو فیصلہ بدل دیں گے
چراغ ان کی بھی آب و ہوا بدل دیں گے
تمہارے شہر کے لوگوں کا کیا بھروسہ ہے
کسی بھی وقت سبھی مُدعا بدل دیں گے
غرض کے شہر میں مو قع پرست ہیں سب لوگ
مفاد دیکھ کے اپنا خدا بدل دیں گے
چلی جو پیا کی گلی دھیرے دھیرے
مِری آنکھ کیوں نم ہوئی دھیرے دھیرے
ابھرتا گیا مجھ میں وہ لمحہ لمحہ
میں تحلیل ہوتی گئی دھیرے دھیرے
نہ بیساکھیوں کا سہارا لیا ہے
میں پاؤں پہ چلتی رہی دھیرے دھیرے
ہر گام زندگی میں عجب سانحے ہوئے
اپنے پرائے جانچنے کے تجربے ہوئے
اک ڈائری پرانی مِرے ہاتھ کیا لگی
یادوں کے زرد پیڑ یکایک ہرے ہوئے
اے دل سنبھال ضبط کہ پُشتے لرز اٹھے
آنکھوں سے بہہ نہ جائیں یہ دریا رکے ہوئے
اب تو اکثر یہ سوچتی ہوں میں
کیا تِرے دل میں واقعی ہوں میں
شہرِ مفتوحہ! دیکھ حسرت سے
تجھ کو سرحد سے دیکھتی ہوں میں
مفلسی! دیکھتی ہے کیا ایسے؟
تیری تصویر بھی رہی ہوں میں
کسی کی سننی نہیں ہے اگر مگر میں نے
جواب دینا ہے ڈنکے کی چوٹ پر میں نے
ابھی سے سائے میں جا کے نگوڑا بیٹھ گیا
ابھی تو دل کو لگایا تھا کام پر میں نے
تِری نظر میں تو یہ سرسری سی کوشش ہے
مجھے پتا ہے بنایا ہے کیسے گھر میں نے
اپنی جنگ ہی لڑتی ہے
لاکھ کہو وہ باغی ہے
باپ کے زندہ رہنے تک
ہر بیٹی شہزادی ہے
راحت جس کو کہتے ہیں
ماں کی گود میں ہوتی ہے
یہ وڈیرے کی پُر اسرار حویلی تو نہیں
زندگی تلخ سہی، کوئی پہیلی تو نہیں
اشک، تنہائی، تِری یاد، کتابیں، وحشت
ایک لشکر ہے مِرے ساتھ، اکیلی تو نہیں
دل کے بہلانے کو ہوتے ہیں کئی خواب حسیں
ان کھلونوں سے مگر میں کبهی کھیلی تو نہیں
گھر میں جب بیٹیاں نہیں ہوں گی
پیڑ پر ٹہنیاں نہیں ہوں گی
غم سے سمجھوتا کر لیا دل نے
اب یہاں سِسکیاں نہیں ہوں
میں کہ دورِ جدید کی لڑکی
پاؤں میں بیڑیاں نہیں ہوں گی
رُتوں کے خوف سے جو فیصلہ بدل دیں گے
چراغ ان کی بھی آب و ہوا بدل دیں گے
تمہارے شہر کے لوگوں کا کیا بھروسہ ہے
کسی بھی وقت سبھی مدعا بدل دیں گے
غرض کے شہر میں موقع پرست ہیں سب لوگ
مفاد دیکھ کے اپنا "خدا" بدل دیں گے