Showing posts with label بلقیس خان. Show all posts
Showing posts with label بلقیس خان. Show all posts

Wednesday, 12 July 2023

اس طرف آپ کی بس ایک نظر ہو جائے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اس طرف آپﷺ کی بس ایک نظر ہو جائے

دل مِرا، میرے شہاﷺ طیبہ نگر ہو جائے

میں محمدﷺ کی غلامی میں رہوں مدحِ کناں

آرزو ہے کہ یونہی عمر بسر ہو جائے

سبز گُنبد کا کروں میں بھی کبھی نظارا

اے خدا میری دعا میں بھی اثر ہو جائے

Monday, 2 May 2022

تمہاری یاد کا اک دائرہ بناتی ہوں

 تمہاری یاد کا اک دائرہ بناتی ہوں

پھر اس میں رہنے کی کوئی جگہ بناتی ہوں

وہ اپنے گرد اٹھاتا ہے روز دیواریں

میں اس کی سمت نیا راستہ بناتی ہوں

زمانہ بڑھ کے وہی پیڑ کاٹ دیتا ہے

میں جس کی شاخ پہ اک گھونسلہ بناتی ہوں

Saturday, 30 April 2022

کسی کی سننی نہیں ہے اگر مگر میں نے

کسی کی سننی نہیں ہے اگر مگر میں نے

جواب دینا ہے ڈنکے کی چوٹ پر میں نے

ابھی سے سائے میں جا کے نگوڑا بیٹھ گیا

ابھی تو دل کو لگایا تھا کام پر میں نے

تِری نظر میں تو یہ سرسری سی کوشش ہے

مجھے پتا ہے بنایا ہے کیسے گھر میں نے

Wednesday, 4 August 2021

تجھے پکار رہی ہوں یہی مری حد ہے

 تجھے پکار رہی ہوں یہی مِری حد ہے

اب اس سے بڑھ کے بھلا اور بھی کوئی حد ہے

مجھے ملی ہے مِرے گھر سے کافی آزادی

مگر یہ شرم و حیا میری اپنی ہی حد ہے

تمہاری شرطوں پہ جیتے رہے ہیں ساری عمر

تمہاری نظروں میں کیا یہ بھی سرسری حد ہے

Saturday, 8 May 2021

لگا کے نقب کسی روز مار سکتے ہیں

 لگا کے نقب کسی روز مار سکتے ہیں

پرانے دوست نیا روپ دھار سکتے ہیں

ہم اپنے لفظوں میں صورت گری کے ماہر ہیں 

کسی بھی ذہن میں منظر اتار سکتے ہیں

بضد نہ ہو کہ تری پیروی ضروری ہے 

ہم اپنے آپ کو بہتر سدھار سکتے ہیں

Thursday, 29 April 2021

عشق دریا ہے گرانبار نہ جانے کوئی

 عشق دریا ہے گراں بار نہ جانے کوئی

بہتے پانی کو گنہ گار نہ جانے کوئی

اس میں روحوں کی ملاقات ہوا کرتی ہے

خواب کے پیار کو بےکار نہ جانے کوئی

میں جو حالات کے دھارے میں بہی جاتی ہوں

مجھ کو لہروں کا طرفدار نہ جانے کوئی

Wednesday, 21 April 2021

رتوں کے خوف سے جو فیصلہ بدل دیں گے

 رُتوں کے خوف سے جو فیصلہ بدل دیں گے

چراغ ان کی بھی آب و ہوا بدل دیں گے

تمہارے شہر کے لوگوں کا کیا بھروسہ ہے

کسی بھی وقت سبھی مُدعا بدل دیں گے

غرض کے شہر میں مو قع پرست ہیں سب لوگ

مفاد دیکھ کے اپنا خدا بدل دیں گے

Monday, 15 March 2021

چلی جو پیا کی گلی دھیرے دھیرے

 چلی جو پیا کی گلی دھیرے دھیرے

مِری آنکھ کیوں نم ہوئی دھیرے دھیرے

ابھرتا گیا مجھ میں وہ لمحہ لمحہ

میں تحلیل ہوتی گئی دھیرے دھیرے

نہ بیساکھیوں کا سہارا لیا ہے

میں پاؤں پہ چلتی رہی دھیرے دھیرے

Monday, 1 March 2021

ہر گام زندگی میں عجب سانحے ہوئے

 ہر گام زندگی میں عجب سانحے ہوئے

اپنے پرائے جانچنے کے تجربے ہوئے

اک ڈائری پرانی مِرے ہاتھ کیا لگی

یادوں کے زرد پیڑ یکایک ہرے ہوئے

اے دل سنبھال ضبط کہ پُشتے لرز اٹھے

آنکھوں سے بہہ نہ جائیں یہ دریا رکے ہوئے

Thursday, 25 February 2021

اب تو اکثر یہ سوچتی ہوں میں

 اب تو اکثر یہ سوچتی ہوں میں

کیا تِرے دل میں واقعی ہوں میں

شہرِ مفتوحہ! دیکھ حسرت سے

تجھ کو سرحد سے دیکھتی ہوں میں

مفلسی! دیکھتی ہے کیا ایسے؟

تیری تصویر بھی رہی ہوں میں

Tuesday, 23 February 2021

کسی کی سننی نہیں ہے اگر مگر میں نے

 کسی کی سننی نہیں ہے اگر مگر میں نے

جواب دینا ہے ڈنکے کی چوٹ پر میں نے

ابھی سے سائے میں جا کے نگوڑا بیٹھ گیا

ابھی تو دل کو لگایا تھا کام پر میں نے

تِری نظر میں تو یہ سرسری سی کوشش ہے

مجھے پتا ہے بنایا ہے کیسے گھر میں نے

Sunday, 21 February 2021

اپنی جنگ ہی لڑتی ہے

 اپنی جنگ ہی لڑتی ہے

لاکھ کہو وہ باغی ہے

باپ کے زندہ رہنے تک

ہر بیٹی شہزادی ہے

راحت جس کو کہتے ہیں

ماں کی گود میں ہوتی ہے

Saturday, 20 February 2021

یہ وڈیرے کی پر اسرار حویلی تو نہیں

 یہ وڈیرے کی پُر اسرار حویلی تو نہیں

زندگی تلخ سہی، کوئی پہیلی تو نہیں

اشک، تنہائی، تِری یاد، کتابیں، وحشت

ایک لشکر ہے مِرے ساتھ، اکیلی تو نہیں

دل کے بہلانے کو ہوتے ہیں کئی خواب حسیں

ان کھلونوں سے مگر میں کبهی کھیلی تو نہیں

Tuesday, 16 February 2021

گھر میں جب بیٹیاں نہیں ہوں گی

 گھر میں جب بیٹیاں نہیں ہوں گی

پیڑ پر ٹہنیاں نہیں ہوں گی

غم سے سمجھوتا کر لیا دل نے

اب یہاں سِسکیاں نہیں ہوں

میں کہ دورِ جدید کی لڑکی

پاؤں میں بیڑیاں نہیں ہوں گی

Saturday, 14 November 2020

رتوں کے خوف سے جو فیصلہ بدل دیں گے

 رُتوں کے خوف سے جو فیصلہ بدل دیں گے

چراغ ان کی بھی آب و ہوا بدل دیں گے

تمہارے شہر کے لوگوں کا کیا بھروسہ ہے

کسی بھی وقت سبھی مدعا بدل دیں گے

غرض کے شہر میں موقع پرست ہیں سب لوگ

مفاد دیکھ کے اپنا "خدا" بدل دیں گے