رُتوں کے خوف سے جو فیصلہ بدل دیں گے
چراغ ان کی بھی آب و ہوا بدل دیں گے
تمہارے شہر کے لوگوں کا کیا بھروسہ ہے
کسی بھی وقت سبھی مُدعا بدل دیں گے
غرض کے شہر میں مو قع پرست ہیں سب لوگ
مفاد دیکھ کے اپنا خدا بدل دیں گے
مِرے حروف کو قرطاسِ ذہن پر لکھ لو
تمہاری فکر کا یہ زاویہ بدل دیں گے
اس ایک آنکھ کو تابع کریں گے ہم ایسا
نظر ملائیں گے، اور آئینہ بدل دیں گے
بلقیس خان
No comments:
Post a Comment