دیوار پر نمی ہے تِری رخصتی کے بعد
اب چیخنا فضول ہے اس خامشی کے بعد
کچھ لوگ بے تحاشہ ہنسے جا رہے تھے اور
کچھ لوگ رو رہے تھے کسی کی ہنسی کے بعد
میلے میں وہ نگاہ سے اوجھل ہی کیا ہُوا
دیکھا نہیں کسی نے کسی کو کسی کے بعد
تم کو خدا نے چاند سا بیٹا عطا کیا
اب اور کیا خوشی ہو تمہاری خوشی کے بعد
معصومیت نہیں ہے ڈھٹائی ہے دوستو
ہاں آج چھوڑ دوں گا مگر مےکشی کےبعد
یعنی، اک اور مرحلہ ہے امتحان کا؟
یعنی اک اور زندگی ہے زندگی کے بعد
دونوں ہی کام میرے مطابق ملے مجھے
پھولوں کا کاروبار کِیا عاشقی کے بعد
اسامہ امیر
No comments:
Post a Comment