Wednesday, 21 April 2021

رکھی نہ گئی دل میں کوئی بات چھپا کر

 رکھی نہ گئی دل میں کوئی بات چھپا کر

دیوار سے ٹھہرا تھا کوئی کان لگا کر

تُو خواب ہے یا کوئی حقیقت نہیں معلوم

کرتی ہوں میں تصدیق ابھی بتی جلا کر

مائل تھی میں خود اس کی طرف کیا پتا اس کو

وہ مجھ سے مخاطب ہوا رومال گرا کر

ملنے کے لیے کیسی جگہ ڈھونڈھ لی تم نے

میں چھُو بھی نہیں سکتی تمہیں ہاتھ بڑھا کر

گزری کسی کی رات غمِ ہجر میں روتے

کمرہ کسی نے رکھا تھا پھولوں سے سجا کر

پھر کوئی نیا کام نکل آیا تھا کم بخت

بیٹھی بھی نہیں تھی میں ابھی کھانا بنا کر

بیٹے نے کہا ماں مجھے مطلب بھی بتاؤ

اٹھنے ہی لگی تھی اسے قرآن پڑھا کر


زہرا قرار

زہرہ قرار

No comments:

Post a Comment