Wednesday, 21 April 2021

جہنم ہے کہ جنت مستقل ہے

 جہنم ہے کہ جنت، مستقل ہے

تِرا مطلب قیامت مستقل ہے

ارے واعظ! یہ تُو کیا کہہ رہا ہے

کہ جینے کی اذیت مستقل ہے

یہ لطف وصل پل دو پل ہے لیکن

وہ ہجراں کی مصیبت مستقل ہے

مقرر ہیں تِرے اوقاتِ سجدہ

مگر، میری عبادت مستقل ہے

ازل سے میں صفائی دے رہا ہوں

تجھے مجھ سے شکایت مستقل ہے

تِری جلوہ نمائی عارضی تھی

تعجب ہے کہ حیرت مستقل ہے

علی شاذف نظامِ زر رہے گا

تو پھر اپنی بغاوت مستقل ہے


علی شاذف باقری

No comments:

Post a Comment