بجا ہے وجہِ الم ظلمتوں کا راج بھی ہے
پر اصل مسئلہ یہ منجمد سماج بھی ہے
ہجومِ سنگ بدستاں بھی ٹھیک کہتا ہے
سوائے سنگ جنوں کا کوئی علاج بھی ہے
مِرا سخن تو ہے میرے ضمیر کی آواز
یہ میرا درد بھی ہے میرا احتجاج بھی ہے
مِرے لہو سے ہے روشن چراغِ مقتل بھی
مِرے لہو ہی سے تزہینِ تخت و تاج بھی ہے
ہمیں بھی اس سے ہے طاہر امیدِ لطف کہ جو
جفا شعار بھی ہے، مستقل مزاج بھی ہے
طاہر گل
No comments:
Post a Comment