تغیّرات سے کب ربطِ گُلستاں نہ رہا
بہار آئی تو کیا خطرۂ خزاں نہ رہا
جبیں جھُکائی تو جنت خرید لی جیسے
سمجھ رہے ہیں کہ اب کوئی امتحاں نہ رہا
فضا میں گُونج رہی ہیں کہانیاں غم کی
ہمیں کو حوصلۂ شرح داستاں نہ رہا
تغیّرات سے کب ربطِ گُلستاں نہ رہا
بہار آئی تو کیا خطرۂ خزاں نہ رہا
جبیں جھُکائی تو جنت خرید لی جیسے
سمجھ رہے ہیں کہ اب کوئی امتحاں نہ رہا
فضا میں گُونج رہی ہیں کہانیاں غم کی
ہمیں کو حوصلۂ شرح داستاں نہ رہا
غم انساں کی سجائی ہوئی دنیا ہوں میں
انجمن میرے تصور میں ہے تنہا ہوں میں
تپش و درد کے اسرار سے واقف ہوں مگر
مجھ کو یہ زعم نہیں ہے کہ مسیحا ہوں میں
جانے کیا شے مرے سینے میں بھری ہے ایسی
شمع سوزاں کی طرح جلتا پگھلتا ہوں میں
ہم جو انساں کے غم اٹھاتے ہیں
خوب کو خوب تر بناتے ہیں
زندگی خواب ہی سہی، لیکن
خواب تعبیر چھوڑ جاتے ہیں
بے حقیقت مسرتوں کے لیے
زندگی بھر فریب کھاتے ہیں
ہائے اردو یہ سیاست تری جاگیر کے ساتھ
کوئی غالب کا طرفدار، کوئی میر کے ساتھ
زندگی ایک سفر خوف کی زنجیر کے ساتھ
موت اک خواب گراں حشر کی تعبیر کے ساتھ
ہر ادا حسن کی محفوظ ہے تاثیر کے ساتھ
بولتی چلتی تھرکتی ہوئی تصویر کے ساتھ