Showing posts with label متین نیازی. Show all posts
Showing posts with label متین نیازی. Show all posts

Monday, 30 March 2026

تغیرات سے کب ربط گلستاں نہ رہا

 تغیّرات سے کب ربطِ گُلستاں نہ رہا

بہار آئی تو کیا خطرۂ خزاں نہ رہا

جبیں جھُکائی تو جنت خرید لی جیسے

سمجھ رہے ہیں کہ اب کوئی امتحاں نہ رہا

فضا میں گُونج رہی ہیں کہانیاں غم کی

ہمیں کو حوصلۂ شرح داستاں نہ رہا

Tuesday, 14 January 2025

غم انساں کی سجائی ہوئی دنیا ہوں میں

 غم انساں کی سجائی ہوئی دنیا ہوں میں

انجمن میرے تصور میں ہے تنہا ہوں میں

تپش و درد کے اسرار سے واقف ہوں مگر

مجھ کو یہ زعم نہیں ہے کہ مسیحا ہوں میں

جانے کیا شے مرے سینے میں بھری ہے ایسی

شمع سوزاں کی طرح جلتا پگھلتا ہوں میں

Tuesday, 23 July 2024

ہم جو انساں کے غم اٹھاتے ہیں

 ہم جو انساں کے غم اٹھاتے ہیں

خوب کو خوب تر بناتے ہیں

زندگی خواب ہی سہی، لیکن

خواب تعبیر چھوڑ جاتے ہیں

بے حقیقت مسرتوں کے لیے

زندگی بھر فریب کھاتے ہیں

Saturday, 9 January 2021

ہائے اردو یہ سیاست تری جاگیر کے ساتھ

 ہائے اردو یہ سیاست تری جاگیر کے ساتھ

کوئی غالب کا طرفدار، کوئی میر کے ساتھ

زندگی ایک سفر خوف کی زنجیر کے ساتھ

موت اک خواب گراں حشر کی تعبیر کے ساتھ

ہر ادا حسن کی محفوظ ہے تاثیر کے ساتھ

بولتی چلتی تھرکتی ہوئی تصویر کے ساتھ