عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ملتفت کتنی مدینے کی ہوا لگتی ہے
یہ تو مہمان نوازی کی ادا لگتی ہے
کس کی آمد سے معطر ہے سحر کا دامن
یہ تو سرکارﷺ کی خوشبوئے قبائکتی ہے
دیکھنا ہے میں پہنچتا ہوں مدینے کہ نہیں
لوگ کہتے ہیں بزرگوں کی دعا لگتی ہے
چھو کے آئی ہے یہ گیسوئے محمدﷺ شاید
آج اِترائی ہوئی بادِ صبا لگتی ہے
میری قسمت کا سنورنا کوئی مشکل تو نہیں
وہ جو چاہیں تو انہیں دیر ہی کیا لگتی ہے
اے منافق! تِری قسمت میں نہیں خُلدِ بریں
بات یہ تلخ سہی پھر بھی خدا لگتی ہے
بالیقیں خاکِ شفا ہے درِ سرکارؐ کی خاک
زائرو! یہ نہ کہو خاک شفا لگتی ہے
بام رفعت در سلطانِ اممﷺ ہے اے حق
سجدہ کیجیے تو جبیں عرش سے جا لگتی ہے
علامہ عبدالحق بنارسی
No comments:
Post a Comment