Saturday, 6 June 2026

ملتفت کتنی مدینے کی ہوا لگتی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ملتفت کتنی مدینے کی ہوا لگتی ہے

یہ تو مہمان نوازی کی ادا لگتی ہے

کس کی آمد سے معطر ہے سحر کا دامن

یہ تو سرکارﷺ کی خوشبوئے قبائکتی ہے

دیکھنا ہے میں پہنچتا ہوں مدینے کہ نہیں

لوگ کہتے ہیں بزرگوں کی دعا لگتی ہے

چھو کے آئی ہے یہ گیسوئے محمدﷺ شاید

آج اِترائی ہوئی بادِ صبا لگتی ہے

میری قسمت کا سنورنا کوئی مشکل تو نہیں

وہ جو چاہیں تو انہیں دیر ہی کیا لگتی ہے

اے منافق! تِری قسمت میں نہیں خُلدِ بریں

بات یہ تلخ سہی پھر بھی خدا لگتی ہے

بالیقیں خاکِ شفا ہے درِ سرکارؐ کی خاک

زائرو! یہ نہ کہو خاک شفا لگتی ہے

بام رفعت در سلطانِ اممﷺ ہے اے حق

سجدہ کیجیے تو جبیں عرش سے جا لگتی ہے


علامہ عبدالحق بنارسی

No comments:

Post a Comment