Monday, 22 June 2026

اگرچہ کام تو مشکل تھا کام کرنا پڑا

 اگرچہ کام تو مُشکل تھا، کام کرنا پڑا

دِیا🪔 جلا کے ہوا سے کلام کرنا پڑا

شجر🌴 کی مثل بنانا پڑا بدن اپنا

پھر اس کا سایہ پرِندوں کے نام کرنا پڑا

بہت ہی نِرخ گِرانے پڑے مجھے اپنے

جو چیز خاص رہی اس کو عام کرنا پڑا

لہُو جلا کے کوئی روشنی بنانی پڑی

پھر اس کے بعد دِیے میں قیام کرنا پڑا

کبھی شُمار تھا جن کا مِرے غلاموں میں

نظر جُھکا کے انہیں بھی سلام کرنا پڑا

حدُودِ چرخِ کُہن سے اِدھر اُدھر قاسم

نئی زمیں کا مجھے اہتمام کرنا پڑا


جاوید قاسم

No comments:

Post a Comment