دیوارِ رہ گزار اگر راستہ نہ دے
ڈر ہے مِرا جنون اِسے بھی گِرا نہ دے
یہ جو تِرے خیال میں گُم ہے تِرا فقیر
اُنگلی پہ کائنات کو اِک دن گُھما نہ دے
اِس واسطے ہوا سے میں کرتا نہیں کلام
یہ شوخ سارے شہر کو جا کر بتا نہ دے
طُغیانیاں قریب سے دیکھوں یہ شوق تھا
اب ڈر رہا ہوں مجھ کو یہ دریا بہا نہ دے
جو زخم دل پہ آیا تُجھے دیکھنے کے بعد
آنکھوں سے کہہ دیا ہے کہ اِس کو ہوا نہ دے
سید تیمور کاظمی
No comments:
Post a Comment